LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن فیصلہ سنا چکے، سندھ کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل، افتتاح کے بعد قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان

خواتین پر تیزاب حملے، خلیل الرحمان قمر نامناسب بیان دینے پر تنقید کی زد میں آگئے

Web Desk

16 June 2026

معروف اور متنازع ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر ایک ٹی وی پروگرام کے دوران خواتین پر تیزاب حملوں سے متعلق دیے گئے اپنے غیر حساس بیان کے باعث شدید عوامی اور سماجی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

ڈرامہ نگار کے حالیہ ریمارکس کو انتہائی غیر ذمے دارانہ اور اس سنگین جرم کی حساسیت کو کم کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب کوئٹہ میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر حالیہ تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اس تپش کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں تیزاب گردی جیسے بھیانک جرائم آج بھی ایک تلخ اور ہولناک حقیقت ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے حساس وقت میں اس نوعیت کے تبصرے اور طنز کرنا متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے اور مجرمانہ ذہنیت کی بالواسطہ پشت پناہی کے مترادف ہے۔

ٹی وی پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو میں جب خواتین کے حقوق، تحفظ اور تیزاب گردی کے متاثرین کے مخدوش مسائل پر بات کی جا رہی تھی تو خلیل الرحمان قمر نے اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے یہ جملہ کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے جیسے مرد اپنی جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر گھومتے ہیں۔‘‘ ان کے اس فقرے کو فوری طور پر نامناسب، اخلاقیات سے عاری اور مظلوموں کی تذلیل پر مبنی قرار دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بھی اس تند و تیز بیان پر شدید ترین ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین، سول سوسائٹی اور حقوقِ نسواں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ عوامی پلیٹ فارمز پر بیٹھ کر دیے جانے والے ایسے بیانات نہ صرف متاثرین کی ذہنی و جسمانی تکلیف کو کم کر کے دکھاتے ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر خواتین کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنے کی دیرینہ کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔