LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ریاست وسکونسن میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، 6 افراد ہلاک صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح 11 بجے طلب کر لیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے رفقا کی فہرست جیل حکام کو جمع روسی وزیر داخلہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق حکومت مخالف تحریک، جے یو آئی کل ملتان میں کانفرنس کرے گی وزیراعظم کی قیمتی پتھروں کیلئے برانڈ پاکستان متعارف کروانے کی ہدایت آئینی عدالت: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار کے پی حکومت سیکیورٹی چیلنجز پر چڑھائی کو ترجیح دیتی رہی، قیدی رہنما کا ریلیف عدالتوں کا اختیار ہے: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا کا فیصلہ واپس لے کر ایوان کو مضبوط بنایا جائے، یہ حکومت بندوق اور پیسے کے زور پر قائم ہے: اپوزیشن لیڈر حکومت نے مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی لیکن تحریک انصاف نے سیاسی خود کش حملہ کیا: بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش محسن نقوی سے روسی ہم منصب کی ملاقات، وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث پاکستانی پروازیں متاثر، 114 منسوخ وزیر اعلیٰ پنجاب نے لائیو سٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا وفاقی آئینی عدالت: بشریٰ بی بی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

پاکستان میں آئینی ترامیم بین الاقوامی ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کو سخت تشویش

Web Desk

28 November 2025

بین الاقوامی ہیومین رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) نے پاکستان میں حال ہی میں منظور کی گئی آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات کی مکمل پیروی کرتی ہے۔

IHRF کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر ادارے نے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ متنازعہ آئینی ترامیم نافذ کر دی گئیں تو انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، مختلف بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی ان ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتے ہیں، فوجی احتساب پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں عدلیہ سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹو کنٹرول کے زیرِ اثر آ سکتی ہے، جس کے جمہوری اصولوں اور عوامی حقوق پر دور رس منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔