LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپٹو ایکسچینج بائنانس پر تاریخی سائبر حملہ، ہیکرز نے اربوں ڈالر کی کرنسی چرا لی ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ پشاور، طلبہ کیساتھ خصوصی نشست بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 5 ڈرون مار گرائے بند موبائل سمز پر بنے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا عمل شروع شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی: ایران پھر ڈٹ گیا ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیئے امریکی ریاست الاسکا میں سینیٹ انتخابات، سیاسی تنازع شدت اختیار گیا امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویہ عہدے سے برطرف امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی فوجی نیٹ ورک سرگرم، اربوں ڈالر کے سازو سامان کی درآمد آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا امریکی فوجی اڈوں پر فریزرز کی خرابی سائبر حملہ قرار، تحقیقات شروع امریکی صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ روس کا ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندی رواں سال کے اختتام تک بڑھانے کا فیصلہ پاکستان، قطر اور دیگر اتحادی ایران بحران کے حل کیلئے فریقین کو ساتھ بٹھانے کے قریب ہیں: ٹام بیرک یمن کا عدن ائیرپورٹ پر حوثیوں کےحملے روکنےکیلئے سلامتی کونسل سے سخت اقدامات کا مطالبہ

وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تخمینہ ساڑھے 17 ہزار ارب روپے، تنخواہ اور پنشن میں اضافہ متوقع

Web Desk

12 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت مالی سال 27-2026ء کے لیے لگ بھگ 17 ہزار 500 ارب روپے (ساڑھے 17 ہزار ارب) کا سالانہ وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سہ پہر 3 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں یہ بجٹ دستاویز پیش کریں گے، جس کے بعد شام 5 بجے اسے سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔بجٹ کی باقاعدہ منظوری کے لیے وزیراعظم کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے، جبکہ اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی دوپہر 2 بجے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا رکھا ہے۔حکومتی ذرائع سے سامنے آنے والے بجٹ کے اہم ترین معاشی اہداف، ٹیکس تجاویز اور عوامی ریلیف کی تفصیلات درج ذیل ہیں:بڑے معاشی اور ترقیاتی اہداف (مختص فنڈز)قرضوں پر سود کی ادائیگی: بجٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 7,824 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔دفاعی بجٹ: ملکی دفاع و سیکیورٹی کے لیے تقریباً 3,000 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ٹیکس ریونیو کا ہدف: ایف بی آر (FBR) کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15,267 ارب روپے متوقع ہے۔پٹرولیم لیوی: ایندھن پر پٹرولیم لیوی کی مد میں 1,727 ارب روپے اکٹھے کرنے کا پلان ہے۔تجارت (درآمدات و برآمدات): نئے مالی سال کے لیے ملکی برآمدات (Exports) کا ہدف 32.8 ارب ڈالر، جبکہ درآمدات (Imports) کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ترقیاتی منصوبے: معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے دفاع اور وزارتِ داخلہ کے سوا کسی بھی شعبے میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف اور نئے ٹیکس سلیبزوفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا رہی ہے۔ تجویز کردہ ماہانہ انکم ٹیکس شرحیں کچھ یوں ہیں:ماہانہ آمدن کی حدمجوزہ ٹیکس شرح4 لاکھ 67 ہزار روپے تک29 فیصد ٹیکس5 لاکھ 83 ہزار روپے تک32 فیصد ٹیکس5 لاکھ 83 fly ہزار روپے سے زائد35 فیصد ٹیکس (برقرار)سالانہ آمدن: سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر بھی 35 فیصد کی شرح لاگو ہوگی، تاہم سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد کمانے والوں پر عائد اضافی سرچارج ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی بھی تجویز ہے۔کون سی چیزیں مہنگی اور کہاں ٹیکس تبدیل نہیں ہوگا؟عوامی اشیاء پر اثرات:نئے بجٹ میں بچوں کا فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل اور سابق قبائلی علاقوں (فاٹا/پاٹا) کے لیے ٹیکس استثنا ختم ہونے سے درجنوں اشیاء خورونوش مہنگی ہونے کا واضح امکان ہے۔ اس کے علاوہ درآمدی (Imported) الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 25 فیصد تک کی جا رہی ہے۔گاڑیاں اور ہائبرڈز: ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس کی شرحیں برقرار رکھی جائیں گی۔نو چینج زون: سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کرپٹو کرنسی اور سپر ٹیکس: ڈیجیٹل کرنسی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ (Crypto Trading) کے منافع پر پہلی بار ‘گین ٹیکس’ عائد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس میں 1 سے 2 فیصد کمی کی تجویز زیرِ غور ہے۔