LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب

2025ء میں دھماکہ خیز ہتھیاروں سے ہونیوالی 56 فیصد اموات میں اسرائیلی فوج ملوث نکلی

Web Desk

12 June 2026

لندن / غزہ: سال 2025ء کے دوران دنیا بھر کے جنگی تنازعات میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق بین الاقوامی ادارے “ایکسپلوزو ویپن مانیٹر” (Explosive Weapon Monitor) نے ایک انتہائی ہولناک اور تشویش ناک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال دھماکا خیز ہتھیاروں کے باعث دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی شہری اموات میں سے 56 فیصد کی ذمہ دار اکیلی اسرائیلی فوج نکلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سال 2025ء کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں (Explosive Weapons) کے استعمال سے مجموعی طور پر 22 ہزار 600 بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔ اس مجموعی جانی نقصان میں سے 56 فیصد ہلاکتیں براہِ راست اسرائیلی فوجی کارروائیوں، بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جو عالمی سطح پر کسی بھی ایک ملک یا فوج کی طرف سے شہریوں کو پہنچایا جانے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ زدہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں اور امدادی سرگرمیوں (Humanitarian Activities) کو نشانہ بنانے کے رجحان میں ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2025ء کے دوران امدادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے حملوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال میں 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں پیش آنے والے ایسے تمام تباہ کن واقعات میں سے تقریباً 90 فیصد واقعات صرف اور صرف فلسطینی علاقوں (غزہ اور مغربی کنارے) میں پیش آئے۔ ایکسپلوزو ویپن مانیٹر کی ریسرچ اور مانیٹرنگ منیجر، کیتھرین ینگ نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “جب بھی گنجان آباد اور شہری علاقوں میں دھماکا خیز ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، تو اس کے بھیانک نتائج صرف معصوم شہری آبادی کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مختلف عالمی تنازعات میں شہریوں کو پہنچنے والا یہ اندوہناک نقصان اب مسلسل اور ایک معمول (Normal) بنتا جا رہا ہے، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے”۔

بین الاقوامی ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ کے بعد عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گنجان آباد شہری علاقوں میں بھاری دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کے استعمال پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرانے کے لیے جنگی جرائم میں ملوث ممالک پر دباؤ بڑھائیں۔