LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟  سلمان اکرم راجہ اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ قومی اسمبلی اجلاس؛ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کی رکنیت پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل توانائی بچت مہم، کاروباری اوقات کار کا نیا نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی: دفتر خارجہ وزیرِ خزانہ نے اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا ایس آئی ایف سی کی بدولت پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں نمایاں کامیابیاں مریم نواز کا شدید گرمی میں عوام کیلئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنے کا حکم امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، 6 افراد 4 ادارے متاثر ایران امریکہ تناؤ، بحرین میں فضائی حملے سے بچاؤ کے سائرن بج اٹھے

شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہے ہیں: مصطفیٰ کمال

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں موروثی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک انقلابی اور تاریخی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ (Thalassemia Screening) لازمی قرار دینے جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں جینیٹک پالیسی کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کی پہلی جامع جینیٹک پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر باقاعدہ متعارف کرا دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے ملکی آبادی اور نظامِ صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی پاکستان سال 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے۔ موجودہ معاشی مشکلات کے باعث بڑھتے ہوئے امراض کا بوجھ برداشت کرنا اب ریاست کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اگر اب بھی مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان مختلف جینیاتی بیماریوں کے پھیلاؤ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس وقت کسی وبائی کیفیت کا منظر پیش کر رہی ہے، حالانکہ گراؤنڈ پر کوئی مخصوص وبا موجود نہیں۔ ہمارا موجودہ نظامِ صحت صرف بیماریوں کے علاج پر مرکوز ہے، جبکہ توجہ بیماریوں کی روک تھام (Prevention) پر ہونی چاہیے۔ صحت کا شعبہ اب محض ایک عوامی مسئلہ نہیں بلکہ باقاعدہ قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اب ہیلتھ کیئر کے جدید ماڈل اور جینیوم پروفائلنگ (Genome Profiling) کی طرف بڑھنا چاہتی ہے تاکہ موروثی، جینیاتی اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مستقل روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں جدید اسکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مالیاتی بوجھ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں جینیاتی اور موروثی بیماریوں کے علاج اور تشخیصی عمل پر سالانہ 200 سے 300 ارب روپے کے خطیر فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، اس وقت پاکستانی شہریوں کو لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک سے مہنگے جینیٹک ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں۔ نئی جینیٹک پالیسی کا بنیادی مقصد ان تمام جدید تشخیصی سہولیات کو پاکستان کے اندر ہی کم لاگت پر دستیاب بنانا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے عوام کو سستی، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔