وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی
Web Desk
11 June 2026
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے دوران بانی پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) سے ملاقاتیں نہ کروانے اور عدالتی و انتظامی احکامات کے باوجود ہدایات نہ لینے دینے کے خلاف اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف کے ارکانِ اسمبلی نے ایوان سے باقاعدہ واک آؤٹ (Walkout) کر دیا ہے۔
ایوانِ زیریں میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ان کی تقریر اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مابین ہونے والی گفتگو کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
ہم نے بارہا اس ایوان اور انتظامیہ سے کہا کہ ہماری عمران خان سے ملاقات کرائی جائے تاکہ ہم پارٹی اور پارلیمانی امور پر ان سے اہم ہدایات لے سکیں، لیکن گزشتہ 34 ہفتوں سے ہماری کوئی ملاقات نہیں کرائی گئی۔سپیکر صاحب! آپ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے یہاں پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی تو بنائی، لیکن اس کمیٹی کی اب تک صرف دو ہی میٹنگز ہو سکی ہیں جو کہ بے نتیجہ رہیں۔ ہم اگر مگر کے بغیر اس جمہوری ایوان کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن یہاں ہماری آواز دبائی جا رہی ہے۔ ہمارے جو لوگ نااہل ہوئے ہم انہیں مس کر رہے ہیں، اب ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں؟سپیکر صاحب! آپ باقاعدہ رولنگ دیں تاکہ بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقاتیں ممکن ہو سکیں۔ ہم اس رویے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر رہے ہیں اور اب باہر جا کر فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ اپوزیشن کے احتجاج پر سپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “اگر عمران خان اس وقت اس معزز ایوان کے رکن اسمبلی ہوتے تو میں ان کی پیداواری کے حوالے سے یا ملاقات کے لیے رولنگ دے سکتا تھا، لیکن موجودہ صورتحال مختلف ہے”۔ سپیکر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے مابین معاملات کو سلجھانے کی اپنی طرف سے پوری مخلصانہ کوشش کی لیکن اپوزیشن نے خود ہی بات چیت کا سلسلہ توڑ دیا۔
بیرسٹر گوہر کی تقریر کے فوراً بعد پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے، جس کے باعث اسمبلی کی کارروائی میں کچھ دیر کے لیے تلخی دیکھنے میں آئی۔
متعلقہ عنوانات
قومی ویمنز ٹیم ایشیا کپ میں شرکت کیلئے دبئی پہنچ گئی
26 August 2026
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال
26 August 2026
پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری
26 August 2026
ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے
26 August 2026
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال
26 August 2026
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات
26 August 2026
پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت
26 August 2026
پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری
26 August 2026