LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ

ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت، جلد ریگولیشن متعارف کرائیں گے: مصطفیٰ کمال

Web Desk

9 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات (Traditional Medicines) کا شعبہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، جس کے مروجہ فروغ اور مؤثر مانیٹرنگ کے لیے حکومت ایک جامع قانون سازی کر رہی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں روایتی طریقۂ علاج اور ہربل ادویات کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم شعبے کے لیے تاحال کوئی جامع قوانین اور ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ تاہم، اب وزارتِ صحت اس حوالے سے بنیادی قانون سازی کا مینوئل کام مکمل کر چکی ہے اور یہ قانونی مسودہ حتمی منظوری کے لیے وزارتِ قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔آئندہ چند ہفتوں میں ڈریپ (DRAP) کو مروجہ گائیڈ لائنز کی منتقلیوفاقی وزیرِ صحت نے ہربل مارکیٹ کی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے اہم ٹائم لائن کا اعلان کیا:قانونی فریم ورک: آئندہ چند ہفتوں کے اندر ہربل اور روایتی ادویات سے متعلق تمام تر ریگولیشنز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے پاس موجود ہوں گی۔صنعتی استحکام: اس اقدام سے ہربل ادویہ سازی کے شعبے کو ایک باقاعدہ قانونی اور انتظامی تحفظ مل سکے گا اور غیر معیاری مصنوعات کا مینوئل خاتمہ ممکن ہوگا۔طریقۂ علاج میں توازن اور مروجہ معاشی پوزیشنمصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس کسی بھی طور پر مغربی یا مروجہ جدید طرزِ علاج (Allopathy) کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا جنیون مقصد صحت کے مختلف نظاموں کے درمیان توازن، باہمی تعاون اور سائنسی روابط کو فروغ دینا ہے کیونکہ ہر شعبۂ طب کی اپنی الگ اہمیت اور افادیت ہے۔پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مینوئل چیلنجزسیمینار کے دوران وزیرِ صحت نے پاکستانی نظامِ صحت کے تقابلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا:صحت کے اشاریے / پیرامیٹرزپاکستان کی پوزیشندیگر ممالک کی پوزیشنمریض کی اوسط صحت یابی کا وقتآٹھ (8) دنتقریباً تین (3) دنہسپتالوں پر دباؤ کی صورتحالگنجائش سے زیادہ (پہلے دن ہی بھر جاتے ہیں)متوازن اور مینیجڈانہوں نے واضع کیا کہ ملک میں بیماریوں کی شرح میں مروجہ طور پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نئے ہسپتال تعمیر ہونے کے باوجود مریضوں کا دباؤ کم نہیں ہو رہا۔مصطفیٰ کمال نے خبردار کرتے ہوئے کہا: “اگر بیماریوں میں اضافے کا یہی رجحان برقرار رہا تو ہم ہر گلی میں بھی ہسپتال بنا دیں، تب بھی مینوئل ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔ ہمارا موجودہ ہیلتھ سسٹم بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے بجائے خود شدید ترین دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔”