LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان

ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت، جلد ریگولیشن متعارف کرائیں گے: مصطفیٰ کمال

Web Desk

9 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات (Traditional Medicines) کا شعبہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، جس کے مروجہ فروغ اور مؤثر مانیٹرنگ کے لیے حکومت ایک جامع قانون سازی کر رہی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں روایتی طریقۂ علاج اور ہربل ادویات کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم شعبے کے لیے تاحال کوئی جامع قوانین اور ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ تاہم، اب وزارتِ صحت اس حوالے سے بنیادی قانون سازی کا مینوئل کام مکمل کر چکی ہے اور یہ قانونی مسودہ حتمی منظوری کے لیے وزارتِ قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔آئندہ چند ہفتوں میں ڈریپ (DRAP) کو مروجہ گائیڈ لائنز کی منتقلیوفاقی وزیرِ صحت نے ہربل مارکیٹ کی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے اہم ٹائم لائن کا اعلان کیا:قانونی فریم ورک: آئندہ چند ہفتوں کے اندر ہربل اور روایتی ادویات سے متعلق تمام تر ریگولیشنز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے پاس موجود ہوں گی۔صنعتی استحکام: اس اقدام سے ہربل ادویہ سازی کے شعبے کو ایک باقاعدہ قانونی اور انتظامی تحفظ مل سکے گا اور غیر معیاری مصنوعات کا مینوئل خاتمہ ممکن ہوگا۔طریقۂ علاج میں توازن اور مروجہ معاشی پوزیشنمصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس کسی بھی طور پر مغربی یا مروجہ جدید طرزِ علاج (Allopathy) کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا جنیون مقصد صحت کے مختلف نظاموں کے درمیان توازن، باہمی تعاون اور سائنسی روابط کو فروغ دینا ہے کیونکہ ہر شعبۂ طب کی اپنی الگ اہمیت اور افادیت ہے۔پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مینوئل چیلنجزسیمینار کے دوران وزیرِ صحت نے پاکستانی نظامِ صحت کے تقابلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا:صحت کے اشاریے / پیرامیٹرزپاکستان کی پوزیشندیگر ممالک کی پوزیشنمریض کی اوسط صحت یابی کا وقتآٹھ (8) دنتقریباً تین (3) دنہسپتالوں پر دباؤ کی صورتحالگنجائش سے زیادہ (پہلے دن ہی بھر جاتے ہیں)متوازن اور مینیجڈانہوں نے واضع کیا کہ ملک میں بیماریوں کی شرح میں مروجہ طور پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نئے ہسپتال تعمیر ہونے کے باوجود مریضوں کا دباؤ کم نہیں ہو رہا۔مصطفیٰ کمال نے خبردار کرتے ہوئے کہا: “اگر بیماریوں میں اضافے کا یہی رجحان برقرار رہا تو ہم ہر گلی میں بھی ہسپتال بنا دیں، تب بھی مینوئل ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔ ہمارا موجودہ ہیلتھ سسٹم بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے بجائے خود شدید ترین دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔”