بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی: دفتر خارجہ
Web Desk
11 June 2026
اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران اہم قومی و بین الاقوامی امور پر پاکستان کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع خطہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی تاریخی قراردادوں میں کشمیری عوام سے حقِ خودارادیت کا باقاعدہ وعدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی نہ تو کوئی قانونی وقعت ہے اور نہ ہی کوئی جواز، اور نئی دہلی ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔بھارتی وزیرِ پانی سی آر پٹیل کی جانب سے “پاکستان کی طرف ایک قطرہ بھی پانی نہ پہنچنے دینے” کے اشتعال انگیز بیان پر ترجمان نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس بیان کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی روکنے جیسے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا کے نازک امن کو شدید خطرے میں ڈال دیں گے، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا واحد ذمہ دار ہندوستان ہوگا۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور دفاعی اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔
طاہر اندرابی نے صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کے حوالے سے اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ کارگو جہاز پر سوار پاکستانی شہری تقریباً 50 روز سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کا عملہ بھی شامل ہے۔ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک کی پیش رفت محدود رہی ہے، تاہم حکومتِ پاکستان تمام سفارتی اور ادارہ جاتی چینلز استعمال کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے پاکستانیوں سمیت تمام یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی اور ان کی حالتِ زار بہتر بنانے پر زور دیا۔اسلام آباد میں تعینات صومالی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے پاکستان کے شدید تحفظات اور تشویش سے باقاعدہ آگاہ کیا گیا۔وزارتِ خارجہ میں مانیٹرنگ کے لیے خصوصی بین الوزارتی اجلاس منعقد کیے گئے ہیں تاکہ جہاز کے مالک، مقامی فریقین اور صومالی حکام کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا مکمل احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا واحد حل صرف بامقصد بات چیت اور سفارت کاری کے راستے میں ہی پنہاں ہے۔ پاکستان خطے کو کسی بھی بڑے انسانی المیے اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے اپنے عالمی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امن کے لیے اپنا تعمیری سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔
متعلقہ عنوانات
سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ
11 June 2026
کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟ سلمان اکرم راجہ
11 June 2026
اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ
11 June 2026
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس؛ ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کا فیصلہ
11 June 2026
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
11 June 2026
قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے
11 June 2026
وفاقی حکومت کا کراچی حیدرآباد موٹر وے کی اازسرنو تعمیر کا فیصلہ
11 June 2026
میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ
11 June 2026