LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب

امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، 6 افراد 4 ادارے متاثر

Web Desk

11 June 2026

واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی و سفارتی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے تحت نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں خاص طور پر 6 کلیدی افراد اور 4 اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ (US Department of the Treasury) کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹس کے مطابق، ان افراد اور اداروں پر ایران کے فوجی، دفاعی اور اسلحہ جاتی پروگراموں کو مالی و لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کا سنگین الزام ہے۔

امریکی حکام نے ان پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایران کے عسکری سازوسامان اور جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے بین الاقوامی نیٹ ورکس (Supply Networks) کو مفلوج کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ماضی میں بھی متعدد کمپنیوں، افراد اور سرکاری اداروں پر ایسی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، اور تازہ ترین کارروائی کو بھی ایران کے خلاف جاری امریکی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure Campaign) کی مہم کا ایک تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔