LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟  سلمان اکرم راجہ اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ قومی اسمبلی اجلاس؛ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کی رکنیت پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل توانائی بچت مہم، کاروباری اوقات کار کا نیا نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی: دفتر خارجہ وزیرِ خزانہ نے اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا ایس آئی ایف سی کی بدولت پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں نمایاں کامیابیاں مریم نواز کا شدید گرمی میں عوام کیلئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنے کا حکم امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، 6 افراد 4 ادارے متاثر ایران امریکہ تناؤ، بحرین میں فضائی حملے سے بچاؤ کے سائرن بج اٹھے

اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: قومی اقتصادی سروے 2025-26 میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر رہے۔

سروے کے مطابق پاکستان میں غربت کی مجموعی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے بڑے چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔

اقتصادی سروے میں اگرچہ معیشت کے بعض شعبوں میں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم زرعی شعبہ حکومتی توقعات پوری نہ کر سکا۔ حکومت نے 4.5 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن زرعی شعبہ صرف 2.89 فیصد ترقی حاصل کر سکا۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی جبکہ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ فی کس آمدنی ایک ہزار 901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اقتصادی سروے میں بعض دلچسپ اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔ ملک میں گدھوں کی تعداد ایک سال کے دوران 60 لاکھ سے بڑھ کر 62 لاکھ ہو گئی جبکہ 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔ اسی طرح پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد پانچ لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر گئی۔