LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل ایران پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں: امریکی میڈیا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل

وزیر توانائی کی زیر قیادت پاور سیکٹر میں پہلی بار جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پبلک سیکٹر کے اندر ایک اعلیٰ سطحی “ڈیٹا گورننس کونسل” قائم کر دی گئی ہے۔ اس کونسل میں پاور سیکٹر کے تمام کلیدی اداروں کی نمائندگی شامل کی گئی ہے، جبکہ اس کی تشکیل نو نومولود پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی خصوصی مشاورت اور تکنیکی رہنمائی کے ساتھ عمل میں لائی گئی ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق، اب ملک کی تمام بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (GENCOs)، تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)، ٹرانسمیشن کمپنیوں (NTDC) اور ریگولیٹری اداروں (NEPRA) کا تمام تر ڈیٹا ایک مربوط اور ڈیجیٹل نظام کے تحت ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔ اس انقلابی اقدام کے نتیجے میں پاکستان کے پاس توانائی کے شعبے کے لیے ایک جدید، محفوظ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ “پاور ڈیٹا ایکو سسٹم” دستیاب ہوگا۔ترجمان نے واضح کیا کہ اس سے قبل پاور سیکٹر کے مختلف اداروں کے پاس الگ الگ اور بکھرے ہوئے اعداد و شمار موجود تھے۔ کمزور کوالٹی کنٹرول اور ناکافی ڈیٹا سکیورٹی کے باعث اکثر شعبے سے متعلق متضاد رپورٹس سامنے آتی تھیں، جس کی وجہ سے طویل مدتی منصوبہ سازی اور اہم ترین فیصلہ سازی کے عمل شدید متاثر ہوتے تھے۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ڈیٹا گورننس کونسل کو بین الاقوامی اور عالمی معیار DAMA-DMBOK کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ کونسل کی براہِ راست نگرانی میں ایک “مرکزی ڈیٹا ریپوزیٹری” (Central Data Repository) قائم کی جا رہی ہے، جو پورے شعبے کا ڈیٹا ایک واحد، مستند اور قابلِ تصدیق پلیٹ فارم پر یکجا کرے گی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ کونسل کے قیام کے بعد سرکاری ادارے، منصوبہ ساز، ریگولیٹرز اور نجی سرمایہ کار اب ایک ہی قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بنیاد پر فوری فیصلے کر سکیں گے۔ اس جدید ترین سسٹم کے ذریعے ملک میں بجلی کی طلب کا سو فیصد درست تخمینہ لگانے، انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ، آپریشنل خطرات کی بروقت نشاندہی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ ملے گا۔

حکومتِ پاکستان ڈیٹا کو ایک اہم ترین قومی اثاثہ تصور کرتی ہے۔ اس کونسل کے ذریعے بین الاقوامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی تصدیق شدہ ڈیٹا تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جس سے ان کے لیے انویسٹمنٹ کے فیصلوں کا عمل تیز ترین ہو جائے گا۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ اس تاریخی پیش رفت کے بعد پاکستان عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ابھرے گا۔