LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، تہران سمیت مختلف شہروں میں دھماکے قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، بیشتر معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے نریندر مودی بھارت میں طویل عرصے رہنے والے وزیراعظم بن گئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری: وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش پورا ملک جل رہا ہے، ووٹ کی تذلیل ہو رہی ہے: محمود خان اچکزئی قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں ترقیاتی بجٹ کی منظوری، وزیراعظم کا وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکر دفاعی بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہے، صوبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے: بیرسٹر گوہر آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات رکوانا چاہتی ہے: رانا ثناء اللہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، وہاں کیا ہو رہا ہے؟ راجہ ناصر عباس کا سینیٹ میں سوال قومی اقتصادی کونسل کا بڑا فیصلہ؛ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں اربوں روپے کی کٹوتی پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید مری ایکسپریس وے پر وین میں آتشزدگی، 10 سیاح جھلس کر جاں بحق سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد پر کارروائی، 26 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت این ای سی کا اہم اجلاس، نئے مالیاتی بجٹ کے لیے 4,715 ارب روپے کا مجموعی ترقیاتی پروگرام تجویز وزیراعظم سے ممبران قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال

امتیاز علی کا اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہونے کا انکشاف

Web Desk

10 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اور مایہ ناز فلمساز و ہدایتکار امتیاز علی نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی میں اپنے کالج کے زمانے میں وہ ایک بار اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہو گئے تھے۔ اپنی آنے والی نئی رومانوی ڈرامہ فلم ’’واپس آؤں گا‘‘ کی تشہیر (Promotions) کے دوران بھارتی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 55 سالہ امتیاز علی نے بتایا کہ یہ خوفناک واقعہ ان کے طالب علمی کے دور میں اس وقت پیش آیا جب وہ دہلی یونیورسٹی کے مشہور ‘ہندو کالج’ میں زیرِ تعلیم تھے اور وہاں طلبہ سیاست کی کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے مطابق، دو بڑی طلبا تنظیموں این ایس یو آئی (NSUI) اور اے بی وی پی (ABVP) کے درمیان جاری شدید کشمکش کے دوران وہ ایک غیر متوقع سیاسی تنازع کا نشانہ بن گئے۔

امتیاز علی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سارا معاملہ محض ایک پوسٹر سے شروع ہوا تھا جو ہاسٹل کی ایک دیوار پر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے صرف اتنی سی درخواست کی تھی کہ اس پوسٹر کو سامنے کی مرکزی دیوار کے بجائے سائیڈ والی دیوار پر لگا دیا جائے، مگر مخالف گروہ نے ان کی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس پر امتیاز علی نے خود وہ پوسٹر وہاں سے اتارا اور دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ فلمساز کے مطابق، اس واقعے کے چند دن بعد انہیں مخالف گروپ کی جانب سے باقاعدہ اغوا کر کے ایک ویران سرکاری کوارٹر میں لے جایا گیا جہاں ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم، بعد میں جب اس گروپ کے مرکزی رہنما کو حقیقت معلوم ہوئی کہ امتیاز علی نے پوسٹر پھاڑا نہیں تھا بلکہ صرف اس کی جگہ تبدیل کی تھی، تو انہوں نے معذرت کر کے انہیں رہا کر دیا۔ امتیاز علی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہی واقعہ ان کے لیے مثبت یادوں میں بدل گیا کیونکہ اس واقعے کے بعد اغوا کرنے والے گروپ کے کئی لڑکے ان کے اچھے دوست بن گئے۔