LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف

امتیاز علی کا اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہونے کا انکشاف

Web Desk

10 June 2026

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اور مایہ ناز فلمساز و ہدایتکار امتیاز علی نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی میں اپنے کالج کے زمانے میں وہ ایک بار اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہو گئے تھے۔ اپنی آنے والی نئی رومانوی ڈرامہ فلم ’’واپس آؤں گا‘‘ کی تشہیر (Promotions) کے دوران بھارتی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 55 سالہ امتیاز علی نے بتایا کہ یہ خوفناک واقعہ ان کے طالب علمی کے دور میں اس وقت پیش آیا جب وہ دہلی یونیورسٹی کے مشہور ‘ہندو کالج’ میں زیرِ تعلیم تھے اور وہاں طلبہ سیاست کی کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے مطابق، دو بڑی طلبا تنظیموں این ایس یو آئی (NSUI) اور اے بی وی پی (ABVP) کے درمیان جاری شدید کشمکش کے دوران وہ ایک غیر متوقع سیاسی تنازع کا نشانہ بن گئے۔

امتیاز علی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سارا معاملہ محض ایک پوسٹر سے شروع ہوا تھا جو ہاسٹل کی ایک دیوار پر لگایا گیا تھا۔ انہوں نے صرف اتنی سی درخواست کی تھی کہ اس پوسٹر کو سامنے کی مرکزی دیوار کے بجائے سائیڈ والی دیوار پر لگا دیا جائے، مگر مخالف گروہ نے ان کی بات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس پر امتیاز علی نے خود وہ پوسٹر وہاں سے اتارا اور دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ فلمساز کے مطابق، اس واقعے کے چند دن بعد انہیں مخالف گروپ کی جانب سے باقاعدہ اغوا کر کے ایک ویران سرکاری کوارٹر میں لے جایا گیا جہاں ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم، بعد میں جب اس گروپ کے مرکزی رہنما کو حقیقت معلوم ہوئی کہ امتیاز علی نے پوسٹر پھاڑا نہیں تھا بلکہ صرف اس کی جگہ تبدیل کی تھی، تو انہوں نے معذرت کر کے انہیں رہا کر دیا۔ امتیاز علی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہی واقعہ ان کے لیے مثبت یادوں میں بدل گیا کیونکہ اس واقعے کے بعد اغوا کرنے والے گروپ کے کئی لڑکے ان کے اچھے دوست بن گئے۔