LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئینی عدالت کا پیرسوہاہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار قومی ٹیسٹ اسکواڈ دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے روانہ؛ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 2 ہزار سے زائد پوائنٹس گر گیا یومِ شہدائے کشمیر،13 جولائی حق، قربانی اور استقامت کا عظیم دن ہے: محسن نقوی امریکا کے سرک، بندر عباس اور جاسک پر حملے، پہلی بار سمندری ڈرون استعمال وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ پاسداران انقلاب نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہنہ اڑک کے گاؤں ببری کا دورہ، آپریشن شعبان کا جائزہ لیا مریم نواز کا حقِ خودارادیت کیلئے جان دینے والے کشمیریوں کو خراجِ تحسین امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی وزارت خارجہ عراق کا خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور اسرائیل میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 27 اکتوبر کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا چلی: فیسٹیول کے دوران ڈرائیور نے گاڑی لوگوں پر چڑھا دی، 6 افراد جاں بحق، بچوں سمیت 7 زخمی کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش وزیراعظم کا 13 جولائی 1931ء کے 22 کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش

سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد پر کارروائی، 26 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

Web Desk

10 June 2026

اسلام آباد: پاک افغان سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک انتہائی مربوط اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس اہم آپریشن کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائیاں ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل کے طور پر کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق، 9 جون 2026 کو موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری (FC) کی چوکی پر ہونے والے بزدلانہ حملے، 2 جون 2026 کو شمالی وزیرستان میں فوجی پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے، اور 9 مئی 2026 کو بنوں میں پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے کارروائیوں کی رفتار تیز کر دی تھی۔ انٹیلی جنس رپورٹس کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور اسلحے کے ذخائر کو انتہائی درستگی (Precision) کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈرز علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل سے منسلک مراکز سمیت چار بڑے اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جن میں ایک بڑا تربیتی مرکز اور اسلحہ گودام بھی شامل ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ “عزمِ استحکام” کے قومی وژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں اب پوری رفتار سے جاری ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان میں مستقل امن و استحکام کی بحالی اور معصوم شہریوں کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور ملک دشمن عناصر کی کسی بھی کارروائی کا اسی طرح سخت اور عبرتناک جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ملکی بقا کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔