LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری: وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش پورا ملک جل رہا ہے، ووٹ کی تذلیل ہو رہی ہے: محمود خان اچکزئی قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں ترقیاتی بجٹ کی منظوری، وزیراعظم کا وزرائے اعلیٰ سے اظہار تشکر دفاعی بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہے، صوبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے: بیرسٹر گوہر آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات رکوانا چاہتی ہے: رانا ثناء اللہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، وہاں کیا ہو رہا ہے؟ راجہ ناصر عباس کا سینیٹ میں سوال قومی اقتصادی کونسل کا بڑا فیصلہ؛ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں اربوں روپے کی کٹوتی پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید مری ایکسپریس وے پر وین میں آتشزدگی، 10 سیاح جھلس کر جاں بحق سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد پر کارروائی، 26 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت این ای سی کا اہم اجلاس، نئے مالیاتی بجٹ کے لیے 4,715 ارب روپے کا مجموعی ترقیاتی پروگرام تجویز وزیراعظم سے ممبران قومی اسمبلی کی ملاقاتیں، حلقوں سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اجلاس، اضافی کفایت شعاری اقدامات میں 30 جون تک توسیع کی سفارش علاقائی ممالک اپنی سرزمین امریکا یا اسرائیل کو فراہم نہ کریں، معاونت دشمنی تصور ہوگی: ایران پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا، رانا ثناء اللہ

آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات رکوانا چاہتی ہے: رانا ثناء اللہ

Web Desk

10 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں اپوزیشن کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا اور تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، لیکن کسی جماعت نے انتخابی نتائج یا انتخابی عمل پر باضابطہ اعتراض نہیں کیا۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور ان پر تحریری معاہدہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق بھی متعدد مطالبات منظور کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقے انتخابات کے انعقاد کو روکنا چاہتے تھے، کیونکہ انتخابات کے انعقاد کے بعد ان کے مؤقف کی اہمیت ختم ہو جاتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات اور معاہدوں پر عملدرآمد کے بعد متعلقہ نمائندوں کو تفصیلی بریفنگ دی، تاہم بریفنگ کے دوران ان کا رویہ غیر مناسب تھا۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پاکستان سے وفاداری کے حلف نامے کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، حالانکہ یہ آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔

دریں اثنا اپوزیشن ارکان نے اپنی سابقہ واک آؤٹ کی کارروائی ختم کرتے ہوئے دوبارہ ایوان میں شرکت کی۔