LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

دفاعی بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہے، صوبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے: بیرسٹر گوہر

Web Desk

10 June 2026

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ دفاعی بجٹ پورا کرنا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے اور اسے کسی صورت صوبوں پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی ذمہ داری ہے، جس کی تکمیل وفاقی حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر دفاعی ضروریات کے لیے دو کھرب روپے بھی درکار ہوں تو اس کا بندوبست وفاق کو خود کرنا ہوگا، صوبوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا درست نہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سال میں ایف بی آر اصلاحات مؤثر انداز میں نہیں کی جا سکیں، جبکہ روپے کی قدر میں کمی اور معاشی بدانتظامی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنشن، سرکاری اخراجات اور دیگر اصلاحاتی وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے، جبکہ ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبے میں بھی خاطر خواہ اصلاحات سامنے نہیں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے حصے میں کمی ممکن نہیں، اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حصے میں کسی قسم کی کمی غیر آئینی ہوگی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق اپنی ناکامیوں کا بوجھ صوبوں پر منتقل نہ کرے اور دفاعی اخراجات کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے اپنے اخراجات میں کمی کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنیکل کمیٹیاں آئینی مسائل کا حل فراہم نہیں کر سکتیں اور عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ چار سال میں معاشی اصلاحات کیوں نہیں کی گئیں۔