LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر مسافروں کے لیے چیئر لفٹ، کیبل کار اور زپ لائن لگانے کا فیصلہ شہباز شریف ہتکِ عزت کیس: عمران خان کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ 11 جون کو ہوگا فیفا ورلڈ کپ 2026 : نیویارک میں پاکستان کی اسپورٹس انڈسٹری کی تشہیری مہم لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز غیر تسلی بخش قرار، آئی سی سی نے ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ جاری کر دیا گلگت بلتستان الیکشن: 15 نشستیں جیت چکے ، عوام کا فیصلہ مانا جائے،  بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ چھینا گیا، معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے: اسد قیصر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات اطالوی سفیر کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے الوداعی ملاقات آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛ کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی

ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں

Web Desk

9 June 2026

اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی تین سالہ فعال کارکردگی کے دوران پاکستان کے شعبہ صحت میں متعدد تاریخی اور انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے باعث نہ صرف ملکی نظامِ صحت کے ڈھانچے میں واضح بہتری آئی ہے بلکہ اس سیکٹر میں اربوں روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔سرکاری دستاویزات اور مروجہ رپورٹس کے مطابق، ایس آئی ایف سی کی خصوصی مانیٹرنگ اور مینیجمنٹ کے تحت وفاقی کابینہ نے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے باقاعدہ نیشنل ویکسین پالیسی (National Vaccine Policy) کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو ویکسین سازی کے شعبے میں خود کفیل بنانا اور بین الاقوامی معیار (WHO Standards) کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی اور ادویات کی قیمتوں میں مینیجڈ نرمیایس آئی ایف سی کی جانب سے نظامِ صحت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے درج ذیل اہم سنگِ میل عبور کیے گئے:خون کی حفاظت اور پلازما: نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کے تحت ملک بھر میں خون کی منتقلی کو محفوظ بنانے اور پلازما کی مقامی پیداوار کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ادویات کی بلا تعطل دستیابی: مارکیٹ پوزیشن کو متوازن رکھنے کے لیے عام استعمال کی ضروری ادویات کی قیمتوں میں مینوئل نرمی کی گئی، جس کے نتیجے میں فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں ادویات کی مصنوعی قلت کا خاتمہ ہوا اور سپلائی پوزیشن بہتر ہوئی۔ڈریپ (DRAP) کی لیبارٹری کو ڈبلیو ایچ او (WHO) کی عالمی منظوریپاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات (Pharmaceutical Exports) کے حوالے سے ایک بڑی اور تاریخی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے باقاعدہ طور پر منظور شدہ قرار دیا گیا۔ اس مروجہ پیش رفت کے بعد اب عالمی منڈیوں میں پاکستانی ادویات پر بین الاقوامی خریداروں اور طبی اداروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔میڈیکل ٹورازم، ہیلتھ ٹیک اور ریکارڈ منافعرپورٹ کے مطابق، کونسل کے اقدامات کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران پاکستان کے صحت کے شعبے کا مجموعی منافع 78 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ 42.2 ارب روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا ہے۔صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے تقابلی اشاریے درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:شعبہ / انڈیکیٹرایس آئی ایف سی کے اقدامات اور نتائجشعبہ صحت کا مجموعی منافع (2025)42.2 ارب روپے (78% فیصد کا تاریخی اضافہ)عالمی ساکھ اور ٹیسٹنگڈریپ (DRAP) کی لیب کو WHO سے باقاعدہ منظوری مل گئیجدید شعبہ جات کا مینوئل آغازہیلتھ ٹیک (HealthTech) اور ٹیلی میڈیسن کا باقاعدہ فروغ