LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں

Web Desk

9 June 2026

اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی تین سالہ فعال کارکردگی کے دوران پاکستان کے شعبہ صحت میں متعدد تاریخی اور انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے باعث نہ صرف ملکی نظامِ صحت کے ڈھانچے میں واضح بہتری آئی ہے بلکہ اس سیکٹر میں اربوں روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔سرکاری دستاویزات اور مروجہ رپورٹس کے مطابق، ایس آئی ایف سی کی خصوصی مانیٹرنگ اور مینیجمنٹ کے تحت وفاقی کابینہ نے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے باقاعدہ نیشنل ویکسین پالیسی (National Vaccine Policy) کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو ویکسین سازی کے شعبے میں خود کفیل بنانا اور بین الاقوامی معیار (WHO Standards) کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی پیداوار کو یقینی بنانا ہے۔بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی اور ادویات کی قیمتوں میں مینیجڈ نرمیایس آئی ایف سی کی جانب سے نظامِ صحت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے درج ذیل اہم سنگِ میل عبور کیے گئے:خون کی حفاظت اور پلازما: نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کے تحت ملک بھر میں خون کی منتقلی کو محفوظ بنانے اور پلازما کی مقامی پیداوار کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ادویات کی بلا تعطل دستیابی: مارکیٹ پوزیشن کو متوازن رکھنے کے لیے عام استعمال کی ضروری ادویات کی قیمتوں میں مینوئل نرمی کی گئی، جس کے نتیجے میں فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں ادویات کی مصنوعی قلت کا خاتمہ ہوا اور سپلائی پوزیشن بہتر ہوئی۔ڈریپ (DRAP) کی لیبارٹری کو ڈبلیو ایچ او (WHO) کی عالمی منظوریپاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات (Pharmaceutical Exports) کے حوالے سے ایک بڑی اور تاریخی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے باقاعدہ طور پر منظور شدہ قرار دیا گیا۔ اس مروجہ پیش رفت کے بعد اب عالمی منڈیوں میں پاکستانی ادویات پر بین الاقوامی خریداروں اور طبی اداروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔میڈیکل ٹورازم، ہیلتھ ٹیک اور ریکارڈ منافعرپورٹ کے مطابق، کونسل کے اقدامات کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران پاکستان کے صحت کے شعبے کا مجموعی منافع 78 فیصد کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ 42.2 ارب روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا ہے۔صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے تقابلی اشاریے درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:شعبہ / انڈیکیٹرایس آئی ایف سی کے اقدامات اور نتائجشعبہ صحت کا مجموعی منافع (2025)42.2 ارب روپے (78% فیصد کا تاریخی اضافہ)عالمی ساکھ اور ٹیسٹنگڈریپ (DRAP) کی لیب کو WHO سے باقاعدہ منظوری مل گئیجدید شعبہ جات کا مینوئل آغازہیلتھ ٹیک (HealthTech) اور ٹیلی میڈیسن کا باقاعدہ فروغ