ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت، جلد ریگولیشن متعارف کرائیں گے: مصطفیٰ کمال
Web Desk
9 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات (Traditional Medicines) کا شعبہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، جس کے مروجہ فروغ اور مؤثر مانیٹرنگ کے لیے حکومت ایک جامع قانون سازی کر رہی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں روایتی طریقۂ علاج اور ہربل ادویات کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم شعبے کے لیے تاحال کوئی جامع قوانین اور ریگولیشنز موجود نہیں تھے۔ تاہم، اب وزارتِ صحت اس حوالے سے بنیادی قانون سازی کا مینوئل کام مکمل کر چکی ہے اور یہ قانونی مسودہ حتمی منظوری کے لیے وزارتِ قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔آئندہ چند ہفتوں میں ڈریپ (DRAP) کو مروجہ گائیڈ لائنز کی منتقلیوفاقی وزیرِ صحت نے ہربل مارکیٹ کی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے اہم ٹائم لائن کا اعلان کیا:قانونی فریم ورک: آئندہ چند ہفتوں کے اندر ہربل اور روایتی ادویات سے متعلق تمام تر ریگولیشنز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے پاس موجود ہوں گی۔صنعتی استحکام: اس اقدام سے ہربل ادویہ سازی کے شعبے کو ایک باقاعدہ قانونی اور انتظامی تحفظ مل سکے گا اور غیر معیاری مصنوعات کا مینوئل خاتمہ ممکن ہوگا۔طریقۂ علاج میں توازن اور مروجہ معاشی پوزیشنمصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس کسی بھی طور پر مغربی یا مروجہ جدید طرزِ علاج (Allopathy) کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا جنیون مقصد صحت کے مختلف نظاموں کے درمیان توازن، باہمی تعاون اور سائنسی روابط کو فروغ دینا ہے کیونکہ ہر شعبۂ طب کی اپنی الگ اہمیت اور افادیت ہے۔پاکستان میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مینوئل چیلنجزسیمینار کے دوران وزیرِ صحت نے پاکستانی نظامِ صحت کے تقابلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا:صحت کے اشاریے / پیرامیٹرزپاکستان کی پوزیشندیگر ممالک کی پوزیشنمریض کی اوسط صحت یابی کا وقتآٹھ (8) دنتقریباً تین (3) دنہسپتالوں پر دباؤ کی صورتحالگنجائش سے زیادہ (پہلے دن ہی بھر جاتے ہیں)متوازن اور مینیجڈانہوں نے واضع کیا کہ ملک میں بیماریوں کی شرح میں مروجہ طور پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث نئے ہسپتال تعمیر ہونے کے باوجود مریضوں کا دباؤ کم نہیں ہو رہا۔مصطفیٰ کمال نے خبردار کرتے ہوئے کہا: “اگر بیماریوں میں اضافے کا یہی رجحان برقرار رہا تو ہم ہر گلی میں بھی ہسپتال بنا دیں، تب بھی مینوئل ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔ ہمارا موجودہ ہیلتھ سسٹم بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے بجائے خود شدید ترین دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔”
متعلقہ عنوانات
میڈیکل یونیورسٹیز میں وائس چانسلر کی تقرری کی حد عمر 75 سال کرنے کا فیصلہ
9 June 2026
ایس آئی ایف سی کی 3 سالہ کارکردگی، صحت کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں
9 June 2026
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!
8 June 2026
قدیم چینی طب میں استعمال ہونیوالی دوا گنج پن کا علاج کر سکتی ہے: تحقیق
8 June 2026
پاکستان کو 9 لاکھ نرسز کی ضرورت؛ جعلی ڈگری ہولڈر صدر اور کونسل مافیا کے خلاف وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا بڑا ایکشن
8 June 2026
املی اور ادرک کا ٹھنڈا شربت، گرمی سے نجات کا قدرتی نسخہ
7 June 2026
فضائی آلودگی آپ کی دماغی قوت کو کمزور کر رہی ہے: تحقیق
6 June 2026
بیوٹی پارلرز، سکن کلینک اور ہیلتھ کلب کے سامان پر ٹیکس کمی کا امکان
6 June 2026