گلگت بلتستان انتخابات 2026 میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا؛ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کا سخت ردعمل،
Web Desk
8 June 2026
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے سربراہ اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) علامہ راجہ ناصر عباس نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات 2026 کے نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر ردوبدل اور منظم دھاندلی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔
اپنے ایک تفصیلی اور سخت ترین مروجہ بیان میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور پھر مخصوص من پسند نتائج کی تشہیر نے پورے انتخابی عمل کی پوزیشن پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے خطے میں الیکشن کے دوران کیے جانے والے بلیک آؤٹ کو حقائق چھپانے کی مینوئل کوشش قرار دیا۔
اپوزیشن لیڈر نے انتخابات کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں پر بات کرتے ہوئے کہا پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے امیدواروں کو الیکشن میں مساوی مواقع فراہم نہیں کیے گئے اور انہیں دیوار سے لگایا گیا۔مروجہ گائیڈ لائنز کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی مداخلت، وفاداریاں تبدیل کرانے اور گراؤنڈ پر زبردستی قبضے کی پرانی روایت کو برقرار رکھ کر انتخابی ماحول کو جان بوجھ کر متاثر کیا گیا۔معاشی بدحالی اور ملک میں جاری سیاسی بحران کے اصل ذمہ داروں کو ایک بار پھر گلگت بلتستان کے عوام پر زبردستی مسلط کر دیا گیا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے خطے کی جغرافیائی پوزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ گلگت بلتستان چین کے ساتھ پاکستان کا واحد زمینی رابطہ ہے، اس لیے اس حساس بارڈر ایریا میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں زمینوں اور املاک پر مینوئل قبضوں کے خدشات نے عوامی تشویش میں پہلے ہی اضافہ کر رکھا ہے، اور اب انتخابی شفافیت پر عوامی اعتماد مجروح ہونے سے خطے میں بے چینی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جو کہ مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ سینیٹر راجہ ناصر عباس نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال کی مس ہینڈلنگ پر بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اپنے ہی عوام پر کرفیو لگانا، انٹرنیٹ و موبائل بلیک آؤٹ کرنا اور بندشیں عائد کرنا کسی بھی مینوئل مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کم عمر نوجوانوں کو گولیاں لگنے کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور کسی بھی بے گناہ کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ عوامی مسائل کا حل طاقت کے وحشیانہ استعمال میں نہیں بلکہ مسلسل مکالمے اور مذاکرات میں ہے۔ حکومت اور پولیس عوام کے گلے شکوے اور اختلافِ رائے کو صبر و تحمل سے سننے کی پابند ہیں۔
انہوں نے ملکی پوزیشن کا موازنہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مروجہ صورتحال سب کے سامنے ہے جہاں غلط پالیسیوں کے باعث پہلے ہی بحران گہرا ہو چکا ہے۔ اب گلگت بلتستان کے چھوٹے مسائل کو بروقت حل نہ کر کے اسے بھی اسی مینوئل دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے مروجہ طور پر مطالبہ کیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سچائی، عدل اور عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
متعلقہ عنوانات
کراچی: کورنگی غریب نواز اسٹاپ کے قریب دکان میں گیس سلنڈر دھماکہ، 6 افراد زخمی
8 June 2026
گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب
8 June 2026
گلگت بلتستان میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت سازی کا امکان، پاور شیئرنگ فارمولا طے
8 June 2026
نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز
8 June 2026
خیبرپختونخوا کو اپنی گیس کی پیداوار سے50فیصد بھی نہیں دیا جاتا : سہیل آفریدی
8 June 2026
وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع
8 June 2026
وزیراعظم اور صدر کی اہم ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں بجٹ تجاویز پر اتفاق
8 June 2026
پی ٹی آئی کا گلگت بلتستان انتخابات مسترد کرنے کا اعلان؛ دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ
8 June 2026