LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے متعلق تشویشناک انکشاف!

Web Desk

8 June 2026

 نفسیاتی امراض اور ذہنی صحت کے حوالے سے کی جانے والی ایک جدید ترین سائنسی تحقیق میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے لیے استعمال ہونے والی اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressant) ادویات کا طویل عرصے تک استعمال مریض کو فائدے کے بجائے صحت کے شدید مروجہ خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

طبی رپورٹ کے مروجہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 33 کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کے عارضے میں مبتلا ہیں، جن کی ایک بہت بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر یہ نفسیاتی ادویات استعمال کر رہی ہے۔ اس مینوئل ڈیٹا میں سب سے دلچسپ پوزیشن یہ سامنے آئی ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ان ادویات کا استعمال تقریباً دوگنا زیادہ دیکھا گیا ہے۔

عالمی صحت کے اداروں کے مینوئل گائیڈ کے مطابق، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے اعلیٰ آمدنی والے ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی ڈپریسنٹس ادویات کا استعمال ایک فیشن یا مستقل عادت بن چکا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کی جانے والی یہ ادویات مریض سالہا سال تک بغیر کسی معائنے کے طویل مدت تک باقاعدگی سے لیتے رہتے ہیں، جو ان کے مروجہ اعصابی نظام کو مفلوج کر رہا ہے

اس مروجہ سائنسی سائنسی جائزے نے ماضی کے اس طبی مفروضے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یہ ادویات بیچی جاتی تھیں:

“ماضی میں یہ مینوئل دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ ادویات دماغ میں موجود ‘سیروٹونن’ (Serotonin) نامی کیمیائی مادے (ہیپی ہارمون) کی بنیادی کمی کو دور کر کے ڈپریشن ختم کرتی ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی جدید سائنسی تحقیقات اب یہ واضح اشارہ دے رہی ہیں کہ اینٹی ڈپریسنٹس دماغ میں کسی ایسی مروجہ کیمیائی کمی کو دور کر کے کام نہیں کرتیں، بلکہ ان کے فوائد انتہائی محدود ہیں۔”

محققین نے ان ادویات کے عادی مریضوں کے حوالے سے ایک بڑی پوزیشن واضح کرتے ہوئے خبردار کیا ہے اینٹی ڈپریسنٹس کا طویل المدت استعمال جسم کو اس کا محتاج بنا دیتا ہے۔ جب کوئی مریض اچانک یا بتدریج یہ دوا چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کے دوران شدید اور انتہائی تکلیف دہ واپسی کی علامات (Withdrawal Symptoms) پیدا ہوتی ہیں۔ بعض افراد میں دوا چھوڑنے کے بعد پیدا ہونے والی یہ ذہنی اور جسمانی علامات، اصل ڈپریشن کی بیماری سے بھی کہیں زیادہ سنگین اور خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مینوئل اختتام پر ماہرینِ طب اور سائنس دانوں نے دنیا بھر کے معالجین اور ماہرینِ نفسیات پر زور دیا ہے کہ وہ مریضوں کو اندھا دھند طویل عرصے کے لیے یہ ادویات تجویز کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے نئی طبی مینوئل گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کے لیے لازمی ہونا چاہیے کہ وہ ہر چھ ماہ بعد اپنے مریض کی ذہنی پوزیشن اور اس کے علاج کا ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیں، تاکہ مریض کو ان ادویات کے مروجہ مہلک اثرات سے محفوظ رکھ کر متبادل قدرتی علاج کی طرف راغب کیا جا سکے۔