بیوٹی پارلرز، سکن کلینک اور ہیلتھ کلب کے سامان پر ٹیکس کمی کا امکان
Web Desk
6 June 2026
اسلام آباد: ملک کے بیوٹی سیکٹر، سکن کلینکس اور ہیلتھ کلبز کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے ایک انتہائی مثبت اور بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے باوثوق ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے بیوٹی پارلرز، سکن کلینک اور ہیلتھ کلب کے استعمال میں آنے والے سامان اور جدید مشینری پر ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں کمی کا قوی امکان ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مروجہ ریلیف کو قانونی شکل دینے کے لیے کسٹم کے نوٹیفیکیشن 1151 اور 1152 میں ترمیم کی جا رہی ہے، جس کے تحت ڈیوٹی میں مزید 2 سے 5 فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی کاروباری لاگت کو کم کرنا اور شہریوں کو سستی خدمات فراہم کرنا ہے۔
بجٹ مینوئل کی تیاری کے سلسلے میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق امپورٹڈ آرائشی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی کا نیا مینوئل درج ذیل ہو سکتا ہے بجٹ میں خواتین کے استعمال کے امپورٹڈ (درآمد شدہ) میک اپ کے سامان پر عائد ڈیوٹی کو موجودہ 44 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کیے جانے کی تجویز ہے۔ بیوٹی پارلرز کے لیے درآمد کیے جانے والے مختلف اقسام کے مروجہ خام مال پر بھی ڈیوٹی 44 فیصد سے گھٹا کر 40 فیصد کیے جانے کا امکان ہے دھوپ کی تمازت سے جلد کو محفوظ رکھنے والی امپورٹڈ سن بلاک اور سن اسکرین پر عائد کسٹم ڈیوٹی بھی 44 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد پر لائی جا سکتی ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق، کٹوتیاں صرف خواتین کے سامان تک محدود نہیں ہیں؛ بیوٹی پارلرز میں بالوں کی دیکھ بھال (Hair Care) کے لیے استعمال ہونے والے خام مال پر ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مردانہ بیوٹی سیلون (Men’s Salons) کے لیے شیونگ کریم اور آفٹر شیو لوشن پر عائد ڈیوٹی کو بھی 40 فیصد سے کم کر کے 35 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
جلد کی نگہداشت اور روزمرہ استعمال کی کاسمیٹکس اشیاء پر ریلیف کی پوزیشن کچھ اس طرح ہونے کی توقع ہے بیوٹی پارلرز کی مینوئل ضرورت کے مطابق فیس واش، صابن اور اس سے متعلقہ دیگر ضروری خام مال پر ڈیوٹی کی شرح 40 فیصد سے کم کر کے 35 فیصد کی جا سکتی ہے۔ چہرے کی پالش اور جلد کی عمومی نگہداشت (Skin Care) کے لیے درآمد کی جانے والی خصوصی کریموں اور مختلف لوشنز پر بھی کسٹم ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے 35 فیصد کیا جا سکتا ہے۔
ان تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد نئے ٹیکس مینوئل کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026