LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں (SDGs پروگرام) کے لیے 70 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ کے فنڈز کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن اور سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 72 ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی استعداد کار میں اضافہ، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا، توانائی کی بچت اور خواتین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق مختلف انتظامی محکموں اور قومی اثاثوں کی بحالی کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے:

  • کیبنٹ اور سٹیبلشمنٹ ڈویژن: پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن کے دیگر منصوبوں پر تقریباً 2 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مختلف منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

  • نیشنل آرکائیوز اور پارلیمنٹ لاجز: ‘نیشنل آرکائیوز پاکستان’ کے بحالی اور اپ گریڈیشن منصوبے پر ساڑھے 5 ارب روپے خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

سرکاری امتحانی نظام کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اہم فنڈز تجویز کیے گئے ہیں:

  • ایف پی ایس سی امتحانی نظام: فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

  • اسلام آباد ٹیکنوپولس: دارالحکومت میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ‘اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبہ’ کے لیے ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  • توانائی کی بچت: توانائی کے شعبے میں شمسی توانائی نظام (سولر سسٹم) کی اپ گریڈیشن اور توانائی بچت کے منصوبوں کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں ورکنگ ویمن اور خواتین افسران کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبے شامل ہیں:

  • ورکنگ ویمن ہاسٹل: اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے نئے منصوبے کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  • رہائشی سہولیات: سرکاری محکموں میں تعینات خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے