کیا ایم این اے کو روکنے کی اتھارٹی ہے؟” پنجاب پولیس نے مجھے جی بی جانے سے روکا، سابق اسپلکر اسد
Web Desk
30 May 2026
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے سینیئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی جانب سے انہیں گلگت بلتستان (سکردو) جانے سے زبردستی روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے برطانوی سامراج کے سیاہ دور سے تشبیہ دی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ انہوں نے آج سکردو روانہ ہونا تھا جہاں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما بشمول بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے جا رہے ہیں، لیکن انہیں پنجاب پولیس نے جی بی جانے سے غیر قانونی طور پر روک دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہمیں بتایا جائے کہ پنجاب پولیس نے کن اختیارات کے تحت ایک موجودہ ممبر قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر کو روکا؟ کیا پنجاب پولیس کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ ایم این اے کی نقل و حرکت پر اس طرح پابندی لگائے؟”
“سیاست میں تفریق اور بدترین سلوک قابلِ مذمت ہے”
اسد قیصر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا بھر کے لیے ایک سیاحتی مقام (Tourism Place) ہے جہاں ہر کوئی آ جا سکتا ہے، لیکن صرف انہیں روک کر باقیوں کو اجازت دینا سیاست میں کھلی تفریق ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسے بدترین سلوک قرار دیا۔
جی بی کے عوام سے اپیل: اسد قیصر نے گلگت بلتستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “جی بی کے عوام انتہائی غیور ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ووٹ کے حق کا صحیح استعمال کریں۔ آپ نے نہ صرف ووٹ ڈالنا ہے بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے۔” انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ تمام جماعتوں کو ‘لیول پلے فیلڈ’ دی جائے، بصورتِ دیگر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
“سرکار کے اقدامات برطانوی سامراج کی یاد دلا رہے ہیں” — مصطفیٰ نواز کھوکھر
پریس کانفرنس میں موجود سینیئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے موجودہ حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو طریقے آج کی سرکار اپنا رہی ہے، وہ ماضی میں برطانوی سامراج کے دور میں دیکھے جاتے تھے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سخت لہجے میں کہا:
-
عوامی ووٹ کی توہین: یہ کیسی حکومت ہے جہاں عوام کے ووٹ کی حیثیت کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ 8 فروری کے انتخابات میں ‘فارم 47’ کی لوٹ سیل لگائی گئی تھی۔
-
اپنے ہی ملک میں این او سی کا مطالبہ: کیا اب اپنے ہی ملک کے شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے NOC لینا پڑے گا؟ انگریز کے دورِ حکومت میں بھی اسی طرح لوگوں کو ‘صوبہ بدر’ کیا جاتا تھا۔
-
سیاسی لاوا ابل رہا ہے: تمام سیاسی جماعتوں کو انڈر مائن (کمزور) کر دیا گیا ہے۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کو صورتحال کی سنگینی سمجھ نہیں آرہی۔ آج گلگت بلتستان میں عوامی غصے کا لاوا ابل رہا ہے۔
انہوں نے مقتدر حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ وہاں کے عوام اب یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ کیوں آج تک ایک “سرزمینِ بے آئین” کا حصہ ہیں اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ ملک میں انتخابات ہی نہ کروائے جائیں۔
متعلقہ عنوانات
آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار
30 May 2026
پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار
30 May 2026
لاہور ہائیکورٹ: شوہر کی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد
30 May 2026
بلوچستان میں ٹرین سروس بحال، جعفر ایکسپریس آج کوئٹہ سے روانہ ہوگی
30 May 2026
حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا
30 May 2026
ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن
29 May 2026
ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے
29 May 2026
اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
29 May 2026