LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، 10 ماہ میں ساڑھے 95 کروڑ ڈالر ملک لے آئے

Web Desk

30 May 2026

کراچی: ملک میں جاری معاشی بحران کے باوجود پاکستان کے آئی ٹی (IT) فری لانسرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں فری لانسرز کی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، جولائی سے اپریل تک کے عرصے میں پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز 95 کروڑ 90 لاکھ (959 ملین) ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ قانونی ذرائع سے پاکستان لائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے قوی امید ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسرز مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ملک میں لانے کا سنگِ میل عبور کر لیں گے۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (جولائی تا اپریل) میں فری لانسرز نے 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے تھے، جبکہ پورے سال کی مجموعی کمائی 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔

ماہرین کی ایک حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق، فری لانسرز کی ترسیلاتِ زر میں اس شاندار اضافے کے پیچھے اسٹیٹ بینک اور حکومت کی چند اہم اصلاحات ہیں:

  • بینک اکاؤنٹس میں آسانی: فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان بنایا گیا۔

  • ڈالر ریٹینشن پالیسی: فری لانسرز کو اپنے اکاؤنٹس میں غیر ملکی کرنسی کی زائد مقدار رکھنے کی قانونی اجازت دی گئی، جس سے آئی ٹی برآمدات کو فروغ ملا۔

  • سست ٹیکس مراعات: حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے صرف 0.25 فیصد کا رعایتی ٹیکس ریٹ مقرر کیا گیا، جس نے فری لانسرز کو غیر قانونی طریقوں کے بجائے رقم رسمی اور بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان لانے پر مائل کیا۔

دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فری لانسرز کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، رواں سال پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کمائے، تاہم حکومتی سرخ فیتے (بیوروکریسی کی پیچیدگیوں) اور بینکنگ نظام کی رکاوٹوں کے سبب تقریباً 2 ارب ڈالر بینکنگ چینل میں آنے کے بجائے حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر رسمی ذرائع کی نذر ہو گئے۔

فری لانسنگ کمیٹی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ‘پافلا’ (PAFLA) نے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔

پافلا نے مرکزی بینک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فری لانسرز کے لیے انٹرنیشنل اے ٹی ایم (ATM) کارڈز کے ذریعے براہِ راست رقم کی منتقلی کو فعال اور آسان بنایا جائے۔ مزید برآں، تمام کمرشل بینکوں میں فری لانسرز کی رہنمائی اور معاونت کے لیے خصوصی طور پر ‘فری لانسرز ڈیسک’ قائم کیے جائیں تاکہ انہیں اپنی ادائیگیاں وصول کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔