LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے فرنچ اوپن 2026 میں سنسنی خیز اپ سیٹ، نواک جوکووچ نوجوان کھلاڑی سے ہار گئے پیٹرول اور ڈیزل 22 روپے سستا، نئی قیمتیں 381 روپے 78 پیسے اور 380 روپے 78 پیسے مقرر میئر نیویارک زہران ممدانی کا اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت سے انکار

پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، 10 ماہ میں ساڑھے 95 کروڑ ڈالر ملک لے آئے

Web Desk

30 May 2026

کراچی: ملک میں جاری معاشی بحران کے باوجود پاکستان کے آئی ٹی (IT) فری لانسرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں فری لانسرز کی آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، جولائی سے اپریل تک کے عرصے میں پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز 95 کروڑ 90 لاکھ (959 ملین) ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ قانونی ذرائع سے پاکستان لائے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے قوی امید ظاہر کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک فری لانسرز مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ملک میں لانے کا سنگِ میل عبور کر لیں گے۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (جولائی تا اپریل) میں فری لانسرز نے 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمائے تھے، جبکہ پورے سال کی مجموعی کمائی 77 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی تھی۔

ماہرین کی ایک حالیہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق، فری لانسرز کی ترسیلاتِ زر میں اس شاندار اضافے کے پیچھے اسٹیٹ بینک اور حکومت کی چند اہم اصلاحات ہیں:

  • بینک اکاؤنٹس میں آسانی: فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان بنایا گیا۔

  • ڈالر ریٹینشن پالیسی: فری لانسرز کو اپنے اکاؤنٹس میں غیر ملکی کرنسی کی زائد مقدار رکھنے کی قانونی اجازت دی گئی، جس سے آئی ٹی برآمدات کو فروغ ملا۔

  • سست ٹیکس مراعات: حکومت کی جانب سے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے صرف 0.25 فیصد کا رعایتی ٹیکس ریٹ مقرر کیا گیا، جس نے فری لانسرز کو غیر قانونی طریقوں کے بجائے رقم رسمی اور بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان لانے پر مائل کیا۔

دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فری لانسرز کی حقیقی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، رواں سال پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کمائے، تاہم حکومتی سرخ فیتے (بیوروکریسی کی پیچیدگیوں) اور بینکنگ نظام کی رکاوٹوں کے سبب تقریباً 2 ارب ڈالر بینکنگ چینل میں آنے کے بجائے حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر رسمی ذرائع کی نذر ہو گئے۔

فری لانسنگ کمیٹی کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ‘پافلا’ (PAFLA) نے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔

پافلا نے مرکزی بینک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فری لانسرز کے لیے انٹرنیشنل اے ٹی ایم (ATM) کارڈز کے ذریعے براہِ راست رقم کی منتقلی کو فعال اور آسان بنایا جائے۔ مزید برآں، تمام کمرشل بینکوں میں فری لانسرز کی رہنمائی اور معاونت کے لیے خصوصی طور پر ‘فری لانسرز ڈیسک’ قائم کیے جائیں تاکہ انہیں اپنی ادائیگیاں وصول کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔