LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہازوں میں خوفناک تصادم، کنٹینرز سمندر میں گر گئے

Web Desk

29 May 2026

کراچی: کراچی بندرگاہ کی حدود کے باہر دو غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان غیر معمولی طور پر براہِ راست تصادم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کے متعدد کنٹینرز سمندر میں گر گئے جبکہ دوسرے جہاز کے اگلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

پورٹ ذرائع کے مطابق، یہ بحری حادثہ 28 مئی کی شب کراچی پورٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ’ایم وی پاپو‘ (MV Papu) اور ’ایم وی نیوا‘ (MV Neva) نامی دو بڑے جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔ تصادم کے نتیجے میں ایم وی پاپو پر لدے کئی قیمتی کنٹینرز توازن بگڑنے سے سمندر برد ہو گئے، جبکہ ایم وی نیوا کے ابتدائی (اگلے) حصے کو نقصان پہنچا۔حادثے کے فوری بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے عملے نے پائلٹ ٹگس کی مدد سے ہنگامی آپریشن شروع کیا۔ پورٹ حکام کے مطابق

  • ایم وی نیوا: متاثرہ کیبل بچھانے والے اس جہاز کو کے پی ٹی ٹگس کی مدد سے بحفاظت بندرگاہ منتقل کر کے برتھ نمبر 5 پر لنگر انداز کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی ضروری مرمت کی جائے گی۔

  • ایم وی پاپو: یہ جہاز اس وقت سمندر کے بیرونی اینکریج (Outer Anchorage) میں موجود ہے، جہاں اس کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چیئرمین کراچی پورٹ ایڈمرل شاہد احمد نے واضح کیا کہ متاثرہ جہازوں کو ہر ممکن تکنیکی اور آپریشنل معاونت فراہم کر دی گئی ہے اور کراچی پورٹ پر بحری جہازوں کی آمد و رفت اور دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

وفاقی وزیر بحری امور کی وضاحت اور انکوائری کا حکم

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اس بحری حادثے پر تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ 28 مئی کی رات بندرگاہ کی حدود سے باہر رونما ہوا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ حادثے میں کوئی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ یہ حادثہ ابتدائی طور پر دونوں جہازوں کے کپتانوں (ماسٹرز) کی مبینہ غفلت کے باعث پیش آیا۔

جنید انوار چوہدری نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں بندرگاہ پر بروقت ردعمل دینے اور مؤثر انتظامات کو یقینی بنانے پر کے پی ٹی کے عملے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عزم دہرایا کہ حکومت بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔