LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں 56 سالہ خاتون گاڑی سے اترتے ہی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق مملکت کی سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کریں گے:سعودی کابینہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی دھرنا ختم، پولیس سے مذاکرات کامیاب، ٹریفک بحال 2مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی مگر بند کمروں میں فیصلہ کرنے والے نہیں مانتے :سہیل آفریدی  مریم نواز نے ورلڈ اربن فورم میں پنجاب پویلین کا افتتاح کردیا ثناء یوسف قتل کیس: عدالت نے عمر حیات کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی امریکا نے حملہ کیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، کیوبا کی دھماکا خیز وارننگ یومِ تکبیر پاکستان کی خودمختاری، دفاعی طاقت کی علامت ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی کینیا: پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 4 افراد ہلاک، 30 زخمی ایران امریکا جنگ کے باعث اپریل میں پاکستان کا خام تیل کا درآمدی بل تاریخی بلند ترین سطح پر بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی: فیلڈ مارشل ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون تمام شعبوں میں بڑھانا چاہتے ہیں: اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت جنوبی سوڈان میں پاکستانی امن دستے لاکھوں جانیں بچانے میں مصروف

نیویارک میں 56 سالہ خاتون گاڑی سے اترتے ہی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

Web Desk

19 May 2026

امریکی شہر نیویارک میں ایک افسوسناک حادثے میں 56 سالہ خاتون کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گئیں۔

پولیس کے مطابق خاتون رات گئے اپنی گاڑی پارک کرکے جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلیں تو وہ قریب ہی موجود کھلے مین ہول میں جاگریں جو تقریباً 10 فٹ سے زائد گہرا تھا۔

حادثے کے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر ریسکیو اہلکاروں نے قریبی اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون کی گاڑی مرسیڈیز بینز ایس یو وی تھی۔ واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بجلی اور گیس کمپنی نے اپنے بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کے وقت علاقے میں کوئی تعمیراتی کام جاری نہیں تھا جبکہ مین ہول کا ڈھکن تقریباً 15 فٹ دور پایا گیا۔

نیویارک پولیس نے بھی واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حفاظتی انتظامات میں غفلت کیسے ہوئی۔