LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

نیویارک میں 56 سالہ خاتون گاڑی سے اترتے ہی کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

Web Desk

19 May 2026

امریکی شہر نیویارک میں ایک افسوسناک حادثے میں 56 سالہ خاتون کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گئیں۔

پولیس کے مطابق خاتون رات گئے اپنی گاڑی پارک کرکے جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلیں تو وہ قریب ہی موجود کھلے مین ہول میں جاگریں جو تقریباً 10 فٹ سے زائد گہرا تھا۔

حادثے کے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر ریسکیو اہلکاروں نے قریبی اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون کی گاڑی مرسیڈیز بینز ایس یو وی تھی۔ واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بجلی اور گیس کمپنی نے اپنے بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کے وقت علاقے میں کوئی تعمیراتی کام جاری نہیں تھا جبکہ مین ہول کا ڈھکن تقریباً 15 فٹ دور پایا گیا۔

نیویارک پولیس نے بھی واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حفاظتی انتظامات میں غفلت کیسے ہوئی۔