معاشی استحکام کی جانب قدم: پاکستان کا قرضوں میں کمی کا فریم ورک آئی ایم ایف کو پیش
Web Desk
19 May 2026
اسلام آباد: پاکستان نے ملک پر واجب الادا سرکاری قرضوں کے بوجھ کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان نے اس پلان کے تحت اگلے سال تک اپنے قرضوں کو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کے 67.4 فیصد پر لانے کا ہدف طے کیا ہے۔ طویل مدتی منصوبے کے تحت یہ قرضے 2028 میں 64.7 فیصد، 2029 میں 61.6 فیصد، اور 2033 میں 56.8 فیصد تک کم کیے جائیں گے، جبکہ فریم ورک کا حتمی ہدف سال 2034 تک قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو 55.7 فیصد کی سطح پر لانا ہے۔
دوسری جانب، آئی ایم ایف نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے اخراجات پر سخت کنٹرول نہ کیا تو قرضوں کا یہ بوجھ کم نہیں ہو سکے گا۔ فنڈ نے انتباہ کیا ہے کہ ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کے بغیر قرضوں میں کمی کا یہ پورا فریم ورک خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنا ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا، سرکاری اداروں (SOEs) کے نقصانات میں کمی لانی ہوگی، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو کنٹرول کرنا ہوگا اور بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مستحکم بنانا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو سہارا دینے والے تمام معاشی ذرائع ختم کرنے کا اعلان
26 August 2026
ایران اور عمان کا ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق
26 August 2026
امریکا نے عالمی سلامتی خطرے میں ڈال دی: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
26 August 2026
صدر، وزیراعظم کی عید میلادالنبیﷺ پر قوم کو مبارکباد، وطن میں امن کیلئے دعائیں
26 August 2026
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل ایک بار پھر مہنگا کر دیا
26 August 2026
عوام حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ اٹھا رہے، ملک میں دہرا نظام نہیں چل سکتا: حافظ نعیم
25 August 2026
رسائیِ مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس: ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کا جائزہ
25 August 2026
عمران خان کی بہن کی درخواست مسترد: سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی تاریخ بتا دی
25 August 2026