LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنکی کے 869 موبائل نمبرز، افریقی شہری بھی منشیات فروشی میں ملوث ہیں: ایڈیشنل آئی جی سندھ امریکہ سنجیدگی دکھائے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم سے چین کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان محسن نقوی کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق ایران کے خلاف فوجی راستہ مکمل ناکام، عزت دیں، عزت لیں: عباس عراقچی امریکی ناکا بندی سے کیوبا میں پٹرول ختم، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو دلائل دینے کیلئے مہلت چینی صدر سے دوبارہ ملاقات، تجارتی معاہدے، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے: ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین دسمبر 2026 تک سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ عمان کے قریب مشتبہ ڈرون حملہ، بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز سمندر میں ڈوب گیا پاکستان ویمن کی زمبابوے کے خلاف کامیابی، دوسرے میچ میں 67 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کیلئے تاریخی کامیابی، عالمی سرمایہ کاروں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، محمد اورنگزیب

ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین

Web Desk

15 May 2026

چین کی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس تنازع کو جاری رکھنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ چینی وزارت خارجہ نے ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور رابطے کے چینلز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس مسئلے کا حل نہ صرف فریقین بلکہ پورے خطے کے ممالک کے مفاد میں ہے۔بیجنگ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایران مسئلے کا فوجی حل کوئی راستہ نہیں ہو سکتا اور عالمی برادری کے مطالبے کے مطابق بحری راستوں کو جلد از جلد کھولا جانا چاہیے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق، صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہوا ہے اور چین نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے اور مذاکراتی عمل کی حمایت کی ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات بیجنگ کے انتہائی محفوظ ترین مقام ‘ژونگ نان ہائی’ (Zhongnanhai) کمپلیکس میں جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات کی حساسیت کے پیشِ نظر صرف محدود تعداد میں صحافیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی، جبکہ صدارتی قافلے کی آمد کے وقت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور سڑکیں خالی کروا دی گئی تھیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ڈی اسکیلیشن کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔