LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا

چینی صدر شی کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کے بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ

Web Desk

14 May 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوسرے روز پیپلز ہال بیجنگ پہنچے، جہاں ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس تاریخی موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے امریکہ کو اس کے 250 ویں یومِ آزادی کی پیشگی مبارکباد بھی دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے ان مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جن میں ایران تنازع، عالمی تجارتی رکاوٹیں، ٹیرف اور سپلائی چین جیسے سنگین مسائل زیرِ بحث ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تائیوان کے مسئلے کو پاک امریکہ تعلقات کی “سرخ لکیر” قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر اسے درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو تصادم ہو سکتا ہے۔ صدر شی نے امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز، بشمول ایلون مسک اور ٹم کک کو یقین دلایا کہ چین کے دروازے کاروبار کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور دونوں ممالک کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں ایک “عظیم رہنما” قرار دیا اور کہا کہ ان کا دوست ہونا ایک اعزاز ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو “تاریخ کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان دہائیوں تک قائم رہنے والے مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ ٹیسلا، ایپل اور این ویڈیا جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی بیجنگ میں موجود ہیں، جو اس دورے کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔