ہزاروں ٹن آلو مفت کیوں بانٹنے پڑے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی
Web Desk
25 April 2026
یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کی ایک شاندار مثال قائم کی گئی ہے، جہاں ایک تجارتی بحران کو عوامی بھلائی کے منصوبے میں بدل دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ایک تاجر کی جانب سے 4 ہزار ٹن آلو کا آرڈر منسوخ کیے جانے کے بعد، ہزاروں ٹن خوراک کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، جسے ایک بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے محفوظ بنا لیا گیا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ملک میں آلو کی غیر معمولی پیداوار کے باعث قیمتیں گر گئیں اور خریدار نے اپنا بڑا آرڈر لینے سے معذرت کر لی۔ جرمنی کے سخت قوانین کے تحت کچرے میں ڈالی گئی خوراک دوبارہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے، اس لیے ان آلوؤں کو تلف کرنا ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ سڑنے والی خوراک سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم (NGO) اور ایک اخبار نے مل کر برلن کے مختلف حصوں میں ‘پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز’ قائم کیے۔ شہریوں کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور مفت آلو لے جائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور 800 ہاتھیوں کے وزن کے برابر آلوؤں کی یہ بڑی مقدار کامیابی سے عوام میں تقسیم ہو گئی۔ اس اقدام کو نہ صرف جرمنی بلکہ عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس نے ثابت کیا کہ مثبت سوچ اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے خوراک کے ضیاع جیسے بڑے عالمی مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
واشنگٹن میں شاہ چارلس کے استقبال کی تیاریوں کے دوران بڑی غلطی
25 April 2026
بچی کا اپنے دادا دادی کی قبروں کو چھوڑ کر جانے سے انکار
25 April 2026
انشورنس کیلئے ریچھ بن کر حملہ کرنیوالے تین افراد کو سزا
24 April 2026
اے آئی روبوٹ نے ٹیبل ٹینس میں انسانوں کو چیلنج کر دیا
24 April 2026
ترک سیاستدان کی موچھوں کے دنیا بھر میں چرچے!
23 April 2026
جہیز میں پرندوں کے پانی پینے کے برتنوں نے روایت بدل ڈالی
23 April 2026
اٹلی: گائے کی زیرِ نگرانی ریسکیو آپریشن، پیرا گلائیڈر کو بچا لیا گیا
22 April 2026
فوٹو سیشن کے دوران شیر کے حملے میں 3 سالہ بچی شدید زخمی
22 April 2026