LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی

عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں

Web Desk

21 April 2026

راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن کے موقع پر علیمہ خان، نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ آڈیالہ جیل سے ملاقات کے بعد واپس روانہ ہو گئیں۔

فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خانم نے کہا کہ بانی پارٹی کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے، اور پارٹی کو انہی کے وژن کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بانی نے سیاسی جماعت بنانے کے لیے تیس سال جدوجہد کی، اس لیے ان کی سوچ اور اصولوں کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو اس ذمہ داری کے قابل سمجھتی ہیں، مگر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی ترجیح ہے۔

علیمہ خانم نے کہا کہ پارٹی میں ان سے زیادہ باصلاحیت اور مخلص افراد کو آگے آنا چاہیے، اور سیاست ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ بانی کے نظریے کے لیے ہونی چاہیے۔

انہوں نے بانی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت عبادت ہے، اور اسی پیغام کے ساتھ کارکنوں کو آگے بڑھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بانی کو حکومت سے ہٹایا گیا تو انہوں نے اس کے بعد مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، اور عوام آج بھی قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ڈٹ کر کھڑے ہوں۔

علیمہ خانم نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی کو سیاست کے حوالے سے شعور دیا گیا ہے، اور جمہوریت میں ووٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے سوال کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے بعض مواقع پر دباؤ ڈالا گیا، اور ایسے حالات میں بہتر فیصلے کیے جا سکتے تھے، مثلاً بانی کے علاج سے متعلق اقدامات۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت سرحدی حالات پُرامن ہیں اور مذاکرات جاری رہیں تو امن برقرار رہ سکتا ہے۔