LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز

ٹائٹینک کے زندہ بچنے والے شخص کی لائف جیکٹ پونے 7 لاکھ پاؤنڈ میں نیلام

Web Desk

20 April 2026

تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کی یادگار اشیا کی حالیہ نیلامی نے دنیا بھر کے مجموعہ کاروں (Collectors) کو حیران کر دیا ہے، جہاں جہاز ڈوبنے کے دوران بچ جانے والی ایک خاتون کی لائف جیکٹ ریکارڈ توڑ 6 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 23 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہو گئی۔ یہ جیکٹ فرسٹ کلاس مسافر لورا میبل فرانکاٹیلی نے استعمال کی تھی اور اس کی خاص بات اس پر موجود وہ دستخط ہیں جو انہوں نے دیگر 8 زندہ بچ جانے والے افراد کے ساتھ مل کر ثبت کیے تھے، جن میں جہاز کے عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔

ولٹ شائر کے نیلام گھر ‘ہینری الریڈج اینڈ سن’ میں ہونے والی اس نیلامی میں ٹائٹینک سے وابستہ کل 344 اشیا پیش کی گئیں، جن میں ایک امیر تاجر کی گھڑی اور لائف بوٹ کا کشن بھی شامل تھا، جو بالترتیب ایک لاکھ 80 ہزار اور تین لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئے۔ نیلام گھر کے مینیجنگ ڈائریکٹر اینڈریو آلڈرج کا کہنا ہے کہ ان اشیا کی غیر معمولی قیمتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ 1912 کے اس سانحے اور اس کے مسافروں کی داستانوں میں لوگوں کی دلچسپی آج بھی برقرار ہے۔