LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے وزیراعظم کی قیادت میں پاک چین معاشی تعاون نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے، ملک احمد خان گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026؛ الیکشن کمیشن کی تیاریاں مکمل، پولنگ کا سامان پرزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کرنے کا عمل شروع امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا

بھارت اور اسرائیل سے کتب کی درآمد پر پابندی برقرار، وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا

Web Desk

17 April 2026

وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں بھارت اور اسرائیل سے کتب سمیت ہر قسم کی اشیاء کی درآمد پر پابندی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر درست قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو دی گئی تمام ہدایات اور نظرثانی کے احکامات کو کالعدم کر دیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری کردہ اکثریتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات خالصتاً ایگزیکٹو (حکومت) کا صوابدیدی اختیار ہیں، اور عدلیہ ان حساس معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا چاہتی ہے، اور اگر عدلیہ اس حوالے سے احکامات جاری کرے گی تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 9 کے تحت ‘پڑھنے کے حق’ کو بنیادی انسانی حق تو تسلیم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ یہ حق ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تابع ہے۔ عدالت کے مطابق، اگرچہ بھارت سے قانون کی کتب سستی ملتی ہیں، لیکن ریاست کی خارجہ پالیسی اور 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے تجارت پر عائد پابندی برقرار رہے گی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قبل ازیں علم کی فراہمی کو بنیاد بنا کر حکومت کو نرمی برتنے کا حکم دیا تھا، جسے وفاقی آئینی عدالت نے یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ہائیکورٹ کے پاس اپنے طور پر ایسی کارروائی کا اختیار نہیں تھا۔