LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

روئی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی من نرخ 20 ہزار 500 روپے کی سطح پر پہنچ گئے

Web Desk

12 April 2026

ملک میں روئی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی من روئی کی قیمت بڑھ کر 20 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ دو برس کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی اور امریکا ایران مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے باعث روئی کی درآمدی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکیں، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران روئی کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی معطلی، معیاری روئی کی محدود دستیابی اور پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے علاقوں ٹنڈو باگو اور ڈگری میں کپاس کے ایڈوانس سودے بھی بلند نرخوں پر طے پائے، جبکہ سانگھڑ میں ایک جننگ فیکٹری نے روئی کی 200 گانٹھوں کا سودا 21 ہزار 700 روپے فی من کے حساب سے کیا۔

احسان الحق کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال کپاس کی کاشت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ کسان بہتر نرخوں کی وجہ سے اس فصل کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار 56 لاکھ گانٹھ رہی، جبکہ ایک امریکی زرعی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پیداوار کا تخمینہ بڑھا کر 72 لاکھ 21 ہزار گانٹھ کر دیا ہے۔