LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی

پاکستان کو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کو مضبوط کرنا چاہئے: مسعود خان

Web Desk

11 April 2026

آزاد کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کا نقطہ عروج قرار دیا ہے۔ دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران جیسی عالمی طاقتوں کی سنجیدہ قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے اس تاریخی موقع پر پاکستانی قوم اور ریاست کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات سے نہ صرف علاقائی تناؤ کم ہوگا بلکہ عالمی معیشت میں بھی استحکام آئے گا۔

سردار مسعود خان نے “اسلام آباد سٹی آف پیس” (Islamabad City of Peace) میں ہونے والے ان مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ ہمیشہ اپنے تعلقات کو بہترین طریقے سے نبھایا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا ہمیں ایک قابلِ اعتماد ثالث کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل ہدف تھا جسے پاکستان نے اپنی حکمتِ عملی سے حاصل کیا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اس عالمی وقار اور کامیابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔

سابق سفیر نے مزید کہا کہ کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے لیے شمال اور جنوب سے ترقی کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ انہوں نے ایک پرامید وژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان عالمی سیاست میں جس باوقار مقام پر کھڑا ہے، اسے آنے والے چند برسوں میں دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہونا چاہیے۔ ماہرینِ خارجہ امور سردار مسعود خان کے اس بیان کو موجودہ صورتحال میں پاکستان کے تزویراتی (Strategic) وزن کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کا اعتراف قرار دے رہے