LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ فٹبال ورلڈ کپ فائنل دیکھنے جائیں گے: وائٹ ہاؤس اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، سی پیک 2.0 پر پیش رفت کا جائزہ ایران نے عربوں کو واپس اونٹوں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دے دی امریکا کے ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے فضائی حملے، تہران کی سخت ردعمل کی دھمکی ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور قابلِ مذمت عمل ہے: ایران ایران خطے کے عوام کے لیے ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے، عبدالملک الحوثی ایران کا حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی تیاری کا پیغام، عالمی توانائی بحران کا خدشہ خطے میں کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی ایف-35 طیاروں کی فضائی نگرانی تیز غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، القسام کمانڈر سمیت 5 فلسطینی شہید خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج

ایران سے ہزاروں پاکستانیوں کی وطن واپسی

Web Desk

11 April 2026

ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد مختلف سرحدی راستوں سے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 42 دنوں کے دوران گبد ریمدان بارڈر کے ذریعے 3,073 افراد وطن واپس آئے، جبکہ تفتان بارڈر کے راستے 28 فروری سے اب تک 10,619 افراد پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر دونوں اہم سرحدی گزرگاہوں سے اب تک 13,692 پاکستانی شہری اپنے ملک پہنچ چکے ہیں۔

وطن واپس آنے والوں میں طلبہ، زائرین، سی مین (Seamen)، مزدور، تاجر اور ایران و عمان میں مقیم دیگر پاکستانی شامل ہیں۔ سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے تمام افراد کی سہولت کے لیے امیگریشن کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام مسافروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی نظام کو منظم رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس بڑے پیمانے پر واپسی کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔