LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہوجائے گی؟

Web Desk

10 April 2026

فلم انڈسٹری اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) کیمرہ ورک، ہدایت کاری اور موسیقی کے شعبوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ بنگلور میں قائم ‘کلیکٹیو آرٹسٹ نیٹ ورک’ جیسے ادارے اب ڈیجیٹل اداکار تخلیق کرنے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ‘رامائن’ اور ‘مہابھارت’ جیسی عظیم داستانوں کو بھی اے آئی کے ذریعے نئے انداز میں ڈھالا جا رہا ہے۔ بھارت، جو دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، وہاں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت اور سنیما گھروں میں شائقین کی کم ہوتی تعداد نے فلم سازوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2019 کے مقابلے میں 2025 تک سنیما گھر جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے حل کے طور پر اب اے آئی سے بنی فلمیں اور خودکار ڈبنگ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایک حیران کن مثال ایروس میڈیا ورلڈ کی ہے جس نے 2013 کی مشہور فلم ’رانجھنا‘ کے اختتام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے ہیرو کو زندہ دکھایا؛ اگرچہ اداکار دھنوش نے اس پر تنقید کی، مگر فلم تجارتی طور پر کامیاب رہی۔ اسی طرح ‘نیورل گیراج’ جیسی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جس سے مختلف زبانوں میں ڈبنگ کے دوران اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت (Lip-sync) بالکل قدرتی محسوس ہوتی ہے، جس میں مائیکروسافٹ اور گوگل جیسے عالمی ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔

تاہم، اس تکنیکی ترقی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ معروف ہدایت کار انوراگ کشیپ سمیت کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ فلم سازی اب تخلیق کے بجائے محض ایک کاروبار بنتی جا رہی ہے، جس سے انسانی جذبات اور فلم کی اصل روح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جہاں اے آئی لاگت میں کمی اور وقت کی بچت کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کمپیوٹر سے تیار کردہ مناظر اور کردار وہ جادوئی اثر پیدا کر پائیں گے جو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں کی حقیقی اداکاری کا خاصہ رہا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کا یہ غلبہ فلموں کے معیار کو بہتر بنائے گا یا تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگا دے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔