LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو

اشرف طائی کلب کی 99 سالہ لیز ختم: کے ایم سی نے کے جی اے جم خانہ سیل کر کے تحویل میں لے لیا

Web Desk

9 April 2026

کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے تاریخی کے جی اے (KGA) جم خانہ، جسے معروف مارشل آرٹسٹ اشرف طائی کے کلب کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق کلب کی 99 سالہ لیز کی مدت ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جم خانہ کو تالے لگا دیے گئے ہیں۔ کے ایم سی کے عملے نے موقع پر پہنچ کر عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے باقاعدہ طور پر میونسپل کارپوریشن کی ملکیت قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب، گرینڈ ماسٹر اشرف طائی نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر سندھ اور حکومتِ سندھ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھیل اور مارشل آرٹس کی خدمات کے پیشِ نظر کلب انہیں واپس دلایا جائے تاکہ وہاں جاری کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اشرف طائی کا موقف ہے کہ یہ کلب دہائیوں سے نوجوانوں کی تربیت کا مرکز رہا ہے اور اس کی بندش سے کھیلوں کے شعبے کو نقصان پہنچے گا۔ اس معاملے نے شہر کے کھیلوں کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔