LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی

ایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی

Web Desk

9 April 2026

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو آموز جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اپنے تازہ بیان میں نیتن یاہو نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ان کی “انگلیاں ٹریگر پر ہیں”۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی اس جنگ بندی میں حزب اللہ شامل نہیں ہے اور اسرائیل اپنے بقیہ اہداف حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔

نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ محض ایک وقفہ ہے، اختتام نہیں، اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران سے افزودہ یورینیم کا مکمل خاتمہ ہے، چاہے وہ معاہدے کے ذریعے ہو یا دوبارہ جنگ چھیڑ کر۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس جارحانہ بیان نے خطے میں پائیدار امن کی کوششوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان پر حالیہ بمباری ان کے اس موقف کی تصدیق کر رہی ہے کہ وہ اس معاہدے کو محدود پیمانے پر دیکھ رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک نئے دور کے آغاز کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔