LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، جنید اکبر اور عبدالغنی آفریدی کیخلاف اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع مالی سال 26ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا؛ اسٹیٹ بینک نے نئے اعداد و شمار جاری اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے

مشکل حالات میں حکومت منی بجٹ لائی توحمایت کریں گے، بلاول بھٹو، ساتھ دینے پر وزیراعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی سے اظہارتشکر

Web Desk

4 April 2026

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، عوامی ریلیف کیلیے حکومت بے نظیر انکم سپورٹ کو استعمال کرے، اگر منی بجٹ لانا ہے تو ہم حمایت کریں گے۔

لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ کفایت شعاری اور توانائی بچت کے تحت تقریب کو مختصر رکھا گیا، جس میں صرف دو ڈویژن کی تنظمیں شامل ہیں۔

انہوں نے تقریر کے آغاز پر ایران کیخلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای سمیت دیگر کی شہادت اور اسکول پر حملے میں معصوم طالبات کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، دعا ہے جلد جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو، ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر ممالک پر حملہ کرنے والے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کیلیے وفاق کی طرح صوبائی حکومتیں بھی فنڈز کی کٹوتی کر کے حصہ ڈال رہی ہیں، سندھ حکومت نے کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کی مالی مدد کا پلان بنایا ہے اور یہ منصوبہ جلد شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں تاریخی مہنگائی اور بحران ہے، جس سے عوام کو بچانے کیلیے صوبائی حکومت کچھ ریلیف فراہم کرے گی، ہم کسانوں اور موٹرسائیکل چلانے والے کو فائدہ دینا چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے چھوٹے کسانوں اور موٹرسائیکل مالکان پر زور دیا کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں کیونکہ معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی، اگر ایسے ہی بحران رہا تو ہوسکتا ہے  وفاق اور صوبے ملکر عوام کی مدد کرنے کا نیا پلان تشکیل دیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات میں فیصلہ کیا کہ صوبے میں جوبھی سرکاری یا پرائیوٹ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہیں اور انہیں مالی سپورٹ دی جائے تاکہ کرایے میں اضافہ نہ ہو جبکہ وفاق کے ساتھ مل کر ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر ٹرانسپورٹرز کو سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ معاشی بحران کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں کیونکہ عوام سخت و مشکلات سے دوچار اور ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔وفاق اور صوبائی حکومتیں جتنے وسائل ہیں اُن کے مطابق اقدامات کریں گی تاکہ غریب کو ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، جس سے چاروں صوبوں میں شفافیت کے ساتھ مالی مدد پہنچائی جارہی ہے۔ عوام کی مدد کیلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جائے اور بجٹ کو بڑھایا جائے، اگر اس کیلیے وفاقی حکومت منی بجٹ لاتی ہے تو اُس کی حمایت کریں گے۔

بلاول نے مشکل حالات میں ساتھ دینے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان میں اتفاق رائے ہونا جبکہ سیاست سے گریز کرنا اچھی بات ہے، ہمیں ایسی صورت حال میں قومی مقصد کو ترجیح دینا چاہیے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سہیل آفریدی بھی عوامی ریلیف کیلیے اقدامات کررہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ بھی کررہے ہیں، ہم سب ملکر ان مشکلات کا سامنا کریں گے، پاکستان میں اتفاق ہوگا تو دنیا کی کوئی قوت ہمیں گراسکتی ہے اور نہ توڑ سکتی ہے۔