LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

بچپن کی ایک پرانی تصویر سے 33 سال بعد گمشدہ بھائی کو تلاش کرنیوالی خاتون

Web Desk

4 April 2026

وسطی چین سے تعلق رکھنے والی ایک ہمت والی خاتون نے اپنی زندگی کے 33 برس جدوجہد اور تلاش میں گزارنے کے بعد بالآخر بچپن کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے گمشدہ چھوٹے بھائی کو تلاش کر لیا۔

بکھرتا ہوا خاندان اور المناک جدائی: صوبہ ہوبی (Hubei) کے علاقے شنتاؤ (Xiantao) سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ لی لین کی زندگی بچپن میں ہی بکھر گئی تھی۔ والدہ کا کینسر سے انتقال اور والد کے ذہنی توازن کھو کر لاپتہ ہو جانے کے بعد 11 سالہ لی لین اور ان کا 7 سالہ بھائی لی شین کباڑ خانے میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک بارشی دن، ٹرک کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے یہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے شہر جا پہنچے، جہاں بھوک اور بے بسی کے دوران ایک معمر خاتون نے لی شین کو کھانے کا لالچ دے کر اپنی بہن سے جدا کر دیا۔

ظلم، پچھتاوا اور طویل تلاش: لی لین نے بتایا کہ وہ پوری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ جیتی رہیں کہ ان کا بھائی ان سے چھین لیا گیا۔ دوسری جانب، لی شین کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک تاریک کمرے میں بند رکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ پہنچا، جہاں ایک خاندان نے اسے گود لے لیا۔

لی لین نے بھائی کی تلاش میں اینٹیں لگائیں، برتن دھوئے اور کارخانوں میں کام کیا، جبکہ تلاش پر تقریباً 10 لاکھ یوآن خرچ کیے۔ ان کے پاس بھائی کی ایک پرانی تصویر کے علاوہ کچھ نہ تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ٹیکنالوجی نے کرشمہ کر دکھایا: رواں سال اس کہانی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب صوبہ جیانگشی کے ایک پولیس اہلکار نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کا استعمال کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ میں مقیم ‘ہان’ نامی شخص کی شناخت لی شین کے طور پر کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔

جذباتی ملاپ: گزشتہ 23 مارچ کو جیانگشی کے پولیس اسٹیشن میں دونوں بہن بھائی 33 سال بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار و قطار رو پڑے۔ اگلے دن لی لین اپنے بھائی کو آبائی قصبے واپس لے گئیں جہاں اہل علاقہ نے آتشبازی اور کیک کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ لی شین کا کہنا تھا کہ “میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میری ایک بڑی بہن ہے اور میں نے اسے ڈھونڈنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔”