LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

بچپن کی ایک پرانی تصویر سے 33 سال بعد گمشدہ بھائی کو تلاش کرنیوالی خاتون

Web Desk

4 April 2026

وسطی چین سے تعلق رکھنے والی ایک ہمت والی خاتون نے اپنی زندگی کے 33 برس جدوجہد اور تلاش میں گزارنے کے بعد بالآخر بچپن کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے گمشدہ چھوٹے بھائی کو تلاش کر لیا۔

بکھرتا ہوا خاندان اور المناک جدائی: صوبہ ہوبی (Hubei) کے علاقے شنتاؤ (Xiantao) سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ لی لین کی زندگی بچپن میں ہی بکھر گئی تھی۔ والدہ کا کینسر سے انتقال اور والد کے ذہنی توازن کھو کر لاپتہ ہو جانے کے بعد 11 سالہ لی لین اور ان کا 7 سالہ بھائی لی شین کباڑ خانے میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک بارشی دن، ٹرک کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے یہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے شہر جا پہنچے، جہاں بھوک اور بے بسی کے دوران ایک معمر خاتون نے لی شین کو کھانے کا لالچ دے کر اپنی بہن سے جدا کر دیا۔

ظلم، پچھتاوا اور طویل تلاش: لی لین نے بتایا کہ وہ پوری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ جیتی رہیں کہ ان کا بھائی ان سے چھین لیا گیا۔ دوسری جانب، لی شین کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک تاریک کمرے میں بند رکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ پہنچا، جہاں ایک خاندان نے اسے گود لے لیا۔

لی لین نے بھائی کی تلاش میں اینٹیں لگائیں، برتن دھوئے اور کارخانوں میں کام کیا، جبکہ تلاش پر تقریباً 10 لاکھ یوآن خرچ کیے۔ ان کے پاس بھائی کی ایک پرانی تصویر کے علاوہ کچھ نہ تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ٹیکنالوجی نے کرشمہ کر دکھایا: رواں سال اس کہانی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب صوبہ جیانگشی کے ایک پولیس اہلکار نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کا استعمال کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ میں مقیم ‘ہان’ نامی شخص کی شناخت لی شین کے طور پر کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔

جذباتی ملاپ: گزشتہ 23 مارچ کو جیانگشی کے پولیس اسٹیشن میں دونوں بہن بھائی 33 سال بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار و قطار رو پڑے۔ اگلے دن لی لین اپنے بھائی کو آبائی قصبے واپس لے گئیں جہاں اہل علاقہ نے آتشبازی اور کیک کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ لی شین کا کہنا تھا کہ “میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میری ایک بڑی بہن ہے اور میں نے اسے ڈھونڈنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔”