LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ثابت کر چکے اسرائیل یمن سے ایران تک کہیں بھی پہنچ سکتا ہے، اسرائیلی وزیر دفاع آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی امریکہ کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی حملے جاری، مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان، امریکہ باہمی تجارتی معاہدے پر دو روزہ مذاکرات جاری فیلڈ مارشل عاصم منیر سے عباس عراقچی کا رابطہ، امریکی حملے معاہدوں کی خلاف ورزی قرار جب تک ضرورت ہوئی لبنان کے سکیورٹی زون میں موجود رہیں گے: نیتن یاہو عباس عراقچی کے عمان اور ترکیہ سے رابطے، امریکا کو مزید کارروائی پر خبردار کر دیا قطر اور امارات کی کویت، بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کا مشترکہ ریسکیو آپریشن، 20 افراد کو ڈوبنے سے بچالیا اردن کا ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ وزیر صحت کا نائٹ پارٹیز اور منشیات سے ایچ آئی وی کے کیسز بڑھنے کا انکشاف امریکی حملے میں چین ایران ریلوے کوریڈور کا اہم پل متاثر، ٹرین سروس معطل برسوں پرانا تعطل ختم، آسٹریلیا کا بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کا فیصلہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم اجلاس، ملکی صورتحال پر تفصیلی مشاورت سندھ کو ٹیکنالوجی اور مالیات کا عالمی مرکز بنانے کا عزم؛ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں اہم اجلاس

پاکستان کا ابھرتا آٹو سیکٹر عالمی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

Web Desk

4 April 2026

کراچی: پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں عالمی سرمایہ کاری کا ایک نیا باب روشن ہوا ہے۔ لکی موٹر کارپوریشن نے چین کے معروف گوانگژو آٹوموبائل گروپ (GAC) کے ساتھ باضابطہ شراکت داری کا اعلان کر دیا ہے۔ جی اے سی گروپ، جو اپنی جدید الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی اور فورچون 500 میں شمولیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، اب پاکستان میں مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اور ای وی (EV) انفراسٹرکچر پر کام کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی وائی ڈی (BYD) کے بعد جی اے سی کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یہ شراکت داری نہ صرف ملک میں سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دے گی بلکہ مقامی صنعت میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی کی منتقلی سے پاکستان میں کاربن کے اخراج میں کمی اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔