LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ثابت کر چکے اسرائیل یمن سے ایران تک کہیں بھی پہنچ سکتا ہے، اسرائیلی وزیر دفاع آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی امریکہ کے ایران پر مسلسل تیسرے روز بھی حملے جاری، مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان، امریکہ باہمی تجارتی معاہدے پر دو روزہ مذاکرات جاری فیلڈ مارشل عاصم منیر سے عباس عراقچی کا رابطہ، امریکی حملے معاہدوں کی خلاف ورزی قرار جب تک ضرورت ہوئی لبنان کے سکیورٹی زون میں موجود رہیں گے: نیتن یاہو عباس عراقچی کے عمان اور ترکیہ سے رابطے، امریکا کو مزید کارروائی پر خبردار کر دیا قطر اور امارات کی کویت، بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کا مشترکہ ریسکیو آپریشن، 20 افراد کو ڈوبنے سے بچالیا اردن کا ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ وزیر صحت کا نائٹ پارٹیز اور منشیات سے ایچ آئی وی کے کیسز بڑھنے کا انکشاف امریکی حملے میں چین ایران ریلوے کوریڈور کا اہم پل متاثر، ٹرین سروس معطل برسوں پرانا تعطل ختم، آسٹریلیا کا بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کا فیصلہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم اجلاس، ملکی صورتحال پر تفصیلی مشاورت سندھ کو ٹیکنالوجی اور مالیات کا عالمی مرکز بنانے کا عزم؛ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں اہم اجلاس

وزیر صحت کا نائٹ پارٹیز اور منشیات سے ایچ آئی وی کے کیسز بڑھنے کا انکشاف

Web Desk

9 July 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں نائٹ پارٹیز، منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور غیر محفوظ رویوں کے باعث ایچ آئی وی (HIV) کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہماری سوسائٹی میں نوجوانوں کے اندر نائٹ پارٹیز اور منشیات کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، اور سامنے آنے والے متعدد کیسز براہِ راست انہی عوامل سے منسلک ہیں۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال، سیکس ورکرز اور نائٹ پارٹیز میں نشے کے بعد غیر محفوظ جنسی رویوں کے باعث ایچ آئی وی پھیل رہا ہے اور ملک کا کوئی بھی بڑا شہر اس سے محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر اس سنگین صورتحال سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، جہاں وفاق کی جانب سے نشاندہی پر صوبائی حکام کارروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ‘آئی ایچ آر اے’ (IHRA) صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے، تاہم نائٹ پارٹیز جیسی سرگرمیوں کو روکنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے والدین پر زور دیا کہ وہ اس خاموش وباء سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، ان سے پوچھ گچھ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی بھی غلط صحبت یا منفی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔