LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

اے آئی کی مدد سے محض 20 ہزار سے ایک ارب 80 کروڑ ڈالرز کی کمپنی قائم کرنیوالے 2 بھائی

Web Desk

3 April 2026

لاس اینجلس: میتھیو گالاگر کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ بچپن کسمپرسی میں گزارنے اور گریجویشن مکمل نہ کرنے والے میتھیو نے 2024 میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے انہیں ارب پتی بنا دیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، میتھیو نے محض 20 ہزار ڈالرز اور اے آئی ٹولز (جیسے ChatGPT اور Growl) کی مدد سے اپنی ٹیلی ہیلتھ کمپنی Medvi کی بنیاد رکھی۔

اس کمپنی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کوڈنگ سے لے کر اشتہارات کی تیاری اور صارفین کے مسائل حل کرنے تک تمام کام اے آئی ٹولز انجام دیتے ہیں۔ میتھیو کے ساتھ ان کی کمپنی میں صرف ان کے بھائی ایلیٹ کام کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس کمپنی کی آمدنی (1.8 بلین ڈالرز) اتنی ہی ہے جتنی اس شعبے کی دوسری بڑی کمپنی ‘ہمز اینڈ ہرز’ (Hims & Hers) کی ہے، جہاں 2400 ملازمین کام کرتے ہیں۔ میتھیو اس کمپنی کے 100 فیصد مالک ہیں اور کوئی بورڈ آف ڈائریکٹرز ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔