LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

پیٹرول بحران کے باعث بینک ملازم نے سواری کا انوکھا طریقہ اختیار کر لیا

Web Desk

1 April 2026

دیواس (بھارت): ایندھن کے بحران نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں کچھ لوگ اس کا دلچسپ حل بھی نکال رہے ہیں۔ بھارتی شہر دیواس میں پیٹرول پمپس پر لگی میلوں لمبی قطاروں اور پیٹرول کی عدم دستیابی نے ایک بینک ملازم گوال ٹھاکر کو غیر روایتی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

گوال ٹھاکر، جو روزانہ اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جاتے تھے، پیٹرول نہ ملنے کے باعث وقت پر ڈیوٹی پہنچنے کے لیے پریشان تھے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کے متبادل کے طور پر گھوڑے کا انتخاب کیا اور اسے چلا کر سڑکوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے اپنے بینک پہنچ گئے۔ وائرل ویڈیو میں انہیں باقاعدہ آفس بیگ لٹکائے گھوڑے پر سوار دیکھا جا سکتا ہے، جس نے راہگیروں کو بھی حیران کر دیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اسے موجودہ دور کے ایندھن بحران کی سنگین عکاسی قرار دیا ہے، جبکہ کچھ نے اسے ایک “ایکو فرینڈلی” اور عملی حل کہہ کر سراہا ہے۔ گوال ٹھاکر کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت نے نقل و حرکت ناممکن بنا دی تھی، اس لیے انہوں نے یہ طریقہ اپنایا تاکہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہ آئے۔