LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت امریکہ نے 85 پاکستانی طلبہ و محققین کو فل برائٹ اسکالرشپس سے نواز دیا کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی

ام رباب چانڈیو کے دادا، والد اور چچا کے قتل کیس کا فیصلہ، تمام ملزمان بری

Web Desk

30 March 2026

سندھ کے ضلع دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے امِ رباب چانڈیو کے خاندان کے تین افراد کے قتل سے متعلق ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج حسن علی کلوڑ کی عدالت نے گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تمام نامزد ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس کا فیصلہ گزشتہ روز محفوظ کیا گیا تھا جسے آج سخت سیکیورٹی میں سنایا گیا۔

17 جنوری 2018 کو میہڑ میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے میں امِ رباب کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں ذوالفقار، علی گوہر، مرتضیٰ اور سکندر چانڈیو جیل میں تھے جبکہ پی پی پی کے ایم پی اے سردار احمد چانڈیو اور برہان خان چانڈیو سمیت دیگر ملزمان ضمانت پر تھے۔ امِ رباب چانڈیو اس وقت ملک گیر سطح پر توجہ کا مرکز بنی تھیں جب وہ انصاف کے حصول کے لیے ننگے پاؤں عدالت پہنچی تھیں۔

فیصلے کے موقع پر دادو میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، 700 سے زائد پولیس اہلکار تعینات رہے اور شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ عدالتی احاطے میں میڈیا اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ازخود نوٹس اور برسوں کی قانونی جدوجہد کے بعد آنے والے اس فیصلے نے قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔