LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا

Web Desk

23 March 2026

کونسٹانز: یونیورسٹی آف کونسٹانز کے سائنس دانوں نے ایک ایسی انقلابی تحقیق پیش کی ہے جس نے گزشتہ 300 برسوں سے رگڑ کے بارے میں رائج بنیادی تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین نے ایک بالکل نئی قسم کی ‘سلائڈنگ فرکشن’ (Sliding Friction) کی نشاندہی کی ہے، جو دو اشیاء کے درمیان کسی طبعی رابطے (Physical Contact) کے بغیر ہی پیدا ہوتی ہے۔

طبیعیات کے معروف ‘ایمنٹنز لا’ (Amontons’s Law) کے تحت اب تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ رگڑ کا براہِ راست تعلق بوجھ یا وزن سے ہوتا ہے؛ یعنی جتنا زیادہ دباؤ ہوگا، رگڑ اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ تاہم، نئی تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ رگڑ ہمیشہ وزن کے ساتھ نہیں بڑھتی۔ ماہرین کے مطابق، جب کسی اندرونی نظام میں مقناطیسی ترتیب (Magnetic Order) خراب ہو جاتی ہے، تو رگڑ اپنی انتہا پر پہنچ سکتی ہے، چاہے بوجھ کم ہی کیوں نہ ہو۔

اس دریافت کی تصدیق کے لیے محققین نے ایک منفرد ‘ٹیبل ٹاپ’ تجربہ ترتیب دیا، جس میں مقناطیسی عناصر کی دو تہوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا۔ حیران کن طور پر یہ تہیں کبھی ایک دوسرے کو چھوتی نہیں تھیں، لیکن ان کے درمیان مقناطیسی تعامل (Magnetic Interaction) ایک ایسی مزاحمتی قوت پیدا کر رہا تھا جسے باآسانی ناپا جا سکتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نینو ٹیکنالوجی اور مشینری کے ڈیزائن میں نئی راہیں کھولے گی، جہاں بغیر چھوئے حرکت اور توانائی کی بچت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔