LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیکنگ میں اضافہ، این سی سی آئی اے کا الرٹ اسرائیل کا غزہ میں جنازے پر حملہ، کم از کم 14 فلسطینی شہید ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے، کئی اہلکار زخمی بحرین میں فضائی حملے کا الرٹ جاری، سائرن فعال کر دیے گئے ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے روس متحرک

ڈونلڈ ٹرمپ ہمت کریں، خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیجیں: پاسداران انقلاب

Web Desk

16 March 2026

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کہ ایرانی بحریہ ختم ہوگئی، حقیقت سے بعید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ایرانی بحریہ ختم ہوچکی تو صدر ٹرمپ ہمت دکھائیں اور حقیقت کا سامنا کریں۔

ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے ابھی وہ میزائل استعمال نہیں کیے جو 2025 میں تیار کیے گئے تھے، اور جون 2025 کے بعد تیار کیے گئے میزائل بھی ابھی منظرِ عام پر نہیں آئے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے نیٹو نے امریکا کی مدد نہیں کی تو اس کا مستقبل بہت برا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورپ اور چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوششوں میں شامل ہوں، اور اگر چین نے مدد نہ کی تو چینی صدر سے ملاقات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے اور یورپی ممالک نے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔