LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ امریکی حملوں میں صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا: وائٹ ہاؤس

خود کو اسرائیل کیخلاف ’طویل جنگ‘ کیلئے تیار کر لیا ہے، حزب اللہ رہنما نعیم قاسم

Web Desk

14 March 2026

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف اپنی حکمتِ عملی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے خود کو ایک “طویل جنگ” کے لیے مکمل طور پر تیار کر لیا ہے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران انہوں نے خبردار کیا کہ صیہونی ریاست کو میدانِ جنگ میں ایسی “حیرتوں” کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

واضح رہے کہ 2 مارچ سے دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ حزب اللہ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد اسرائیل پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل لبنان کے مختلف علاقوں پر بھاری بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اس کشیدگی نے پورے خطے میں ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ نعیم قاسم کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ دفاعی پوزیشن کے بجائے اب جارحانہ اور طویل المدتی جنگ کے لیے پرعزم ہے۔