LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان

خود کو اسرائیل کیخلاف ’طویل جنگ‘ کیلئے تیار کر لیا ہے، حزب اللہ رہنما نعیم قاسم

Web Desk

14 March 2026

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف اپنی حکمتِ عملی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے خود کو ایک “طویل جنگ” کے لیے مکمل طور پر تیار کر لیا ہے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران انہوں نے خبردار کیا کہ صیہونی ریاست کو میدانِ جنگ میں ایسی “حیرتوں” کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

واضح رہے کہ 2 مارچ سے دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ حزب اللہ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد اسرائیل پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل لبنان کے مختلف علاقوں پر بھاری بمباری کر رہا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اس کشیدگی نے پورے خطے میں ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر لی ہے۔ نعیم قاسم کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ دفاعی پوزیشن کے بجائے اب جارحانہ اور طویل المدتی جنگ کے لیے پرعزم ہے۔