LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر

ہم صرف ایک نتھنے سے ہی سانس کیوں لیتے ہیں؟ اس اسرار کا راز جانیں

Web Desk

9 March 2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ عام حالات میں سانس لیتے وقت ایک وقت میں ایک نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے؟ یہ دراصل انسانی جسم کا ایک قدرتی اور خودکار عمل ہے جسے نیزل سائیکل (Nasal Cycle) کہا جاتا ہے۔

اگر آپ گہری سانس لے کر غور کریں تو محسوس ہوگا کہ ایک نتھنا زیادہ کھلا ہوتا ہے جبکہ دوسرے سے ہوا کا بہاؤ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم کا معمول کا نظام ہے جو دن بھر میں کئی مرتبہ خود بخود تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو عموماً ہر دو گھنٹے بعد سانس لینے والا نتھنا تبدیل ہو جاتا ہے، جبکہ نیند کے دوران یہ عمل نسبتاً کم ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت سانس لینے کی رفتار کم ہوتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے میں ہوا کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا نتھنا زیادہ کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے اور جراثیم ناک کے خلیات سے ٹکرانے لگتے ہیں تو جسم سانس لینے والا نتھنا تبدیل کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کو دماغ خودکار طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب دایاں نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے تو جسم نسبتاً زیادہ متحرک اور الرٹ ہوتا ہے، جبکہ بائیں نتھنے کے فعال ہونے پر جسم زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہے۔

یہ قدرتی نظام ناک اور نظام تنفس کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ انسان کے جسم سے روزانہ تقریباً 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے۔ اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کا موقع ملتا ہے، شریانوں میں خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور نتھنوں میں نمی برقرار رہتی ہے۔